جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں جمعہ کی صبح ایک مشکوک اسکارپیو گاڑی پولیس کی چیک پوسٹ پر رکنے کے بجائے تیزی سے فرار ہو گئی، جس کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے تلاشی شروع کر دی۔ حکام کے مطابق، یہ گاڑی سری نگر سے جموں کی طرف جا رہی تھی۔ چندر کوٹ کے مقام پر پولیس اہلکاروں نے معمول کی سیکیورٹی جانچ کے دوران گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، لیکن ڈرائیور نے اشارے کو نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی ناشری کی طرف بھگا دی۔ پولیس نے گاڑی کو روکنے کی کوشش میں تین وارننگ فائر بھی کیے، لیکن اس کے باوجود ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف اور بھارتی فوج نے فوری طور پر گاڑی کی تلاش شروع کر دی۔ سیکیورٹی اہلکار علاقے اور آس پاس کے تمام راستوں پر گاڑی کا سراغ لگانے اور اس میں سوار افراد کی شناخت کے لیے کاروائی کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب جموں و کشمیر میں امرناتھ یاترا جاری ہے۔ چونکہ رامبن ضلع یاتریوں کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس لیے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئی ۔آرٹیکل 370 تنسیخ پر ایک دن معطل رہنے کے بعد جمعرات کو جموں سے امرناتھ یاترا دوبارہ شروع کر دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 1,801 یاتریوں کا ایک قافلہ بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کشمیر میں واقع امرناتھ غار کے لیے روانہ ہوا۔ اس قافلے میں 1,347 مرد، 351 خواتین، 89 سادھو اور 14 سادھوائیں شامل تھیں، جنہوں نے 74 گاڑیوں میں سفر کیا۔ عہدیداروں کے مطابق، یہ قافلہ صبح تقریباً 2:45 بجے سخت سیکیورٹی کے ساتھ بالتل بیس کیمپ کی جانب روانہ ہوا، جبکہ پہلگام کے راستے سے اس روز کوئی قافلہ نہیں بھیجا گیا۔
حکام نے بتایا کہ اس تازہ قافلے کے روانہ ہونے کے بعد اس سال جموں سے امرناتھ یاترا کے لیے روانہ ہونے والے یاتریوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 43 ہزار 513 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، اب تک 4 لاکھ 71 ہزار سے زائد یاتری 3,880 میٹر بلند امرناتھ غار میں برف سے بنے قدرتی شیو لنگم کے درشن کر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق، 57 سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔