تمل ناڈو اسمبلی کےچونکا دینے والے نتائج کےبعد، ریاست کی واحد بڑی پارٹی(ٹی وی کے) تملگا ویٹری کزگم ، نے ریاست میں نئی حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا۔ ٹی وی کے چیف، سی جوزف وجے نے بدھ کو ریاستی گورنر سے ملاقات کی۔ اور ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا باضابطہ دعویٰ پیش کیا۔ ریاست کی 234 رکنی اسمبلی میں (TVK) واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔
لوک بھون میں گورنرسے ملاقات
اگلی حکومت کی تشکیل کو لے کر بے مثال سیاسی جوش و خروش اور شدید قیاس آرائیوں کے درمیان وجے گورنر راجندر وشواناتھ ارلیکر سے ملاقات کرنے لوک بھون پہنچے۔ٹی وی کے کے سینئر لیڈران، بشمول 'بسی' آنند، کے اے سینگوٹائیان، آدھو ارجن، اور ارون راج، گورنر کے ساتھ اہم ملاقات کے دوران وجے کے ساتھ تھے۔
حکومت سازی کا پیش کیا دعویٰ
ذرائع کے مطابق، وجے نے گورنر ارلیکر کو ایک رسمی خط پیش کیا جس میں حکومت سازی کا دعوت نامہ طلب کیا گیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ پارٹی مقررہ وقت کے اندر اسمبلی کے فلور پر اپنی اکثریت ثابت کر دے گی۔اس میٹنگ کو وجے کی قیادت میں تمل ناڈو میں نئی حکومت کی تشکیل کی طرف پہلا بڑا آئینی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹی وی کے واحد بڑی پارٹی
واضح رہے کہ اداکار سے سیاست دان بنے وجے کی پارٹی TVK نے حال ہی میں ختم ہوئےاسمبلی انتخابات میں 108 سیٹیں جیت کر ریاست کی واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر شاندار کامیابی حاصل کی ۔ تاہم، پارٹی اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے درکار جادوئی عدد 118 نشستوں سے ہم ہے۔
وجے قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب
بتایاجا رہا ہےکہ نتائج کے بعد، وجے نے نومنتخب ایم ایل اے اور پارٹی کے سینئر لیڈروں سے مشاورت کی۔منگل کو، TVK کے قانون سازوں نے متفقہ طور پر انہیں قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا، جس سے ان کے لیے گورنر کے سامنے دعویٰ کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔
کانگریس کی مشروط حمایت، لفٹ سے بھی تائید کی توقع
دریں اثنا، چنئی میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں، کئی پارٹیاں پولنگ کے بعد کے منظر نامے میں اپنے آپشنز پر غور کر رہی ہیں۔ کانگریس پہلے ہی TVK کو مشروط حمایت دے چکی ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں اور چھوٹی علاقائی تنظیموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وجے کی قیادت والی حکومت کی حمایت کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اندرونی بات چیت کریں گے۔
برسراقتدار ڈی ایم کے جسے انتخابات میں بڑا دھچکا لگا تھا، اس نے بھی ایک مدت کے بعد اقتدار کھونے کے بعد اندرونی مشاورت شروع کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دن تمل ناڈو میں اگلی حکومت کی شکل اور استحکام کے تعین کے لیے اہم ہوں گے۔