تلنگانہ کے وزیر پونگولیٹی سری نواس ریڈی نے وضاحت کی ہے کہ گچی باولی میں سروے نمبر 25 میں 400 ایکڑ سے زیادہ کے ملکیتی حقوق مکمل طورپر ریاستی حکومت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اس مسئلہ پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر مقدمات لڑکر اپنے حقوق حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین کا ایک انچ بھی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا نہیں ہے۔ ریاستی وزیر نے کہاکہ اس اراضی کے حوالے سے جو بھی تنازعہ پیدا ہوا وہ توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔
انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے سبھی سیاستدان ہیں اور وہ کچھ طلباء کو گمراہ کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس کے مفادات کے مطابق جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں۔ پونگلیٹی سرینواس ریڈی نے کہاکہ جنوری 2003 کو اس وقت کی حکومت نے کانچا گچی باولی میں اکیڈمیز کو زمین الاٹ کی تھی تھی۔
کے ٹی آر کا چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت تنقید !
ساتھ ہی بتا تے چلیں کہ بی آر ایس کے کارگزرا صدر کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئےماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے نام پر لوگوں اور جانوروں کے گھروں کو تباہ کرنے کی مسلسل انہدامی مہم پر حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ریونت ریڈی ۔ حکومت چلارہے ہیں یا بلڈوزر کمپنی چلارہے ہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں راما راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے سب سے پہلے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے نام پر بہت سے غریب لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترقی کے بہانے لگاچرلا اور آس پاس کے علاقوں میں قبائلی بستیوں کا پیچھا کیا اور اسے بنجر زمین دیاجوکہ جھوٹ ہے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ان تمام کے بعد حکومت اب جانوروں کے گھروں کے پیچھے پڑی ہے ۔ سابق وزیر نے ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ حکومت چلارہے ہیں یا رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے طورپر کام کررہے ہیں۔