تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ کو منگل کے روز پولیس نے حیدرآباد میں اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ نلگنڈہ ضلع میں پارٹی کے مقامی رہنما ناگم ورشیت ریڈی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ ورشیت ریڈی کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر کانگریس کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔ پولیس نے رام چندر راؤ کو نلگنڈہ جانے سے روکنے کے لیے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ صبح سے ہی ان کے تارناکہ میں واقع گھر کے باہر پولیس اہلکار تعینات تھے۔
نلگنڈہ جانے کی کوشش پر گرفتاری
جب رام چندر راؤ اپنے گھر سے باہر نکلے اور نلگنڈہ جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور گاندھی نگر پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ رام چندر راؤ نے سوشل میڈیا کےذ ریعے الزام لگایا کہ انہیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ نلگنڈہ ضلع بی جے پی صدر ناگم ورشیت ریڈی سے ملنے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق کانگریس کارکنوں نے ورشیت ریڈی کے گھر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور وہ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے ان سے ملنا چاہتے تھے۔
بی جے پی کا کانگریس پر الزام
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ پیر کی شام نلگنڈہ میں سیاسی کشیدگی کے دوران کانگریس کارکنوں نے ورشیت ریڈی کے گھر پر حملہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ورشیت ریڈی کے افراد خاندان ، جن میں ان کی والدہ بھی شامل ہیں، مبینہ طور پر متاثر ہوئے۔ بی جے پی کا مزید الزام ہے کہ حملہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے پولیس نے ریاستی بی جے پی صدر کو ہی روک دیا اور گرفتار کر لیا۔ رام چندر راؤ نے بھی کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں نے مخالفت کی
جی کشن ریڈی نے رام چندر راؤ کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر یہ دوسری بار ہے جب انہیں نظر بند کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے بھی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کارکنوں پر حملہ ہو رہا ہے تو کاروائی کیوں نہیں کی جا رہی، جبکہ پارٹی کے ریاستی صدر کے متاثرہ کارکنوں سے ملنے پر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے رام چندر راؤ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
رام چندر راؤ کی گرفتاری نے تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ بی جے پی اس معاملے کو اپوزیشن کو دبانے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ پورا معاملہ اب پولیس کی کاروائی اور نلگنڈہ میں ہوئے مبینہ حملے کی تحقیقات سے جڑا ہوا ہے۔