تلنگانہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کیلئے عمر کی حد میں مزید دس سال کا اضافہ کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے ہزاروں امیدواروں کو فائدہ پہنچنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ملازمتوں کیلئے درخواست دینے سے محروم ہو گئے تھے۔
اس سلسلے میں حکومت کے چیف سکریٹری کے رام کرشنا راؤ نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا۔ موجودہ قوانین کے مطابق عام سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواست دینے کی زیادہ سے زیادہ عمر 34 سال مقرر تھی، تاہم حکومت کے تازہ فیصلے کے بعد اب یہ حد بڑھا کر 44 سال کر دی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ عمر میں دی گئی یہ اضافی چھوٹ ایک سال کی مدت کیلئے جاری ہونے والے تمام سرکاری نوٹیفکیشنز پر لاگو ہوگی۔ اس فیصلے کو ریاست کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت کے مطابق علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد مختلف سرکاری محکموں میں تقرریوں میں تاخیر، کورونا وبا کے دوران بھرتیوں کا عمل متاثر ہونے اور بروقت نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں امیدوار عمر کی حد عبور کر چکے تھے۔ اس مسئلہ پر بے روزگار نوجوانوں اور امیدواروں کی جانب سے مسلسل حکومت سے اپیل کی جا رہی تھی کہ عمر کی حد میں نرمی دی جائے۔
حکومت نے ان درخواستوں کا مثبت جائزہ لیتے ہوئے عمر کی حد میں دس سال کی خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا۔ حکام کے مطابق یہ نیا اصول ریاست کی مختلف ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے جاری ہونے والے تمام عام سرکاری ملازمت کے نوٹیفکیشنز پر نافذ ہوگا۔
تاہم حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ رعایت یونیفارم والی خدمات پر لاگو نہیں ہوگی، جہاں جسمانی فٹنس کے سخت معیارات ضروری ہوتے ہیں۔ پولیس، ایکسائز، فائر، جیل اور جنگلات کے محکموں میں ملازمتوں کیلئے پہلے سے موجود قوانین ہی برقرار رہیں گے۔
حکومت کے اس فیصلے کا بے روزگار نوجوانوں اور مختلف امیدوار تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ہزاروں امیدواروں کو سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا نیا موقع ملے گا۔