• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • طویل انتظار ہوا ختم۔ تلنگانہ نے وقف ریکارڈ آندھرا پردیش کے حوالے کردیا

طویل انتظار ہوا ختم۔ تلنگانہ نے وقف ریکارڈ آندھرا پردیش کے حوالے کردیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 17, 2026 IST

طویل انتظار ہوا ختم۔ تلنگانہ نے وقف ریکارڈ آندھرا پردیش کے حوالے کردیا
تلنگانہ سے وقف ریکارڈ بارہ سال کے بعد آندھراپردیش کو پہنچا
تقریباً 3,503 فائلیں اور4,050 سروے رپورٹس حوالے کی گئیں 
اے پی وقف بورڈ کےچیئرمین عبدالعزیز نےکہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ
 تلنگانہ سےآندھراپردیش کو55 کروڑ روپے واجب الادا ہیں:عبدالعزیز
 
ریاست کی تقسیم کے بارہ سال بعد، آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں کے درمیان ایک اہم تنازعہ بالآخر طویل عرصہ بعد حل ہو گیا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے آندھرا پردیش سے متعلق وقف املاک کے ہزاروں ریکارڈ اے پی کو سونپ دیئے ہیں۔ اس منتقلی سے اس مسئلے کا مستقل حل مل گیا ہے جو پچھلے دس سالوں سے حل طلب تھا۔
 
آندھراپردیش وقف بورڈ کے عہدیداروں کو تلنگانہ وقف بورڈ سے جملہ 3,503 فائلیں، 4,050 سروے کمشنر کی رپورٹس، دو سرکاری گزٹ جلدیں اور دیگر اہم دستاویزات موصول ہوئے ہیں۔ حوالے کیے گئے ریکارڈ میں 79 بنڈلوں میں 3,503 فائلیں، 4,050 سروے کمشنر رپورٹس، دو سرکاری گزٹ جلدیں اور آندھرا پردیش سے متعلق کئی دیگر دستاویزات شامل ہیں۔ اے پی وقف بورڈ کے چیئرمین عبدالعزیز نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا کہ یہ ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے اور کہا کہ اب ان کے پاس وقف املاک کے تحفظ کے لیے درکار کلیدی ثبوت موجود ہیں۔
 
حالانکہ 2014 میں ریاست کی تقسیم کے دوران وقف ایکٹ 1995 کی دفعات کے مطابق آندھرا پردیش سے متعلق ریکارڈ، جائیدادیں اور فنڈز کو منتقل کیا جانا تھا، لیکن یہ عمل ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے رکا ہوا تھا۔ اہم ریکارڈوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے، اے پی وقف بورڈ کے لیے جائیدادوں کے مالکانہ حقوق کا پتہ لگانا، تجاوزات کو روکنا اور عدالتوں میں مؤثر طریقے سے مقدمات کی سماعت کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔
 
 عبدالعزیز نے انکشاف کیا کہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو، وزراء نارا لوکیش اور این ایم ڈی فاروق  کے ساتھ ساتھ تلنگناہ وقف بورڈ  کےاہلکاروں سے اظہار تشکر کیا۔ انھوں نے ان کے تعاون  سے  ان ریکارڈوں کی دستیابی سے وقف املاک کے انتظام کو ہموار کرنا اور تنازعات کو جلد حل کرنا ممکن ہوگا۔ اس سلسلے میں اے پی کو تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سےتقریباً 55 ہزار کروڑ روپئے روپے ملنا ہیں۔ اور انہیں امید ہے کہ وہ بھی جلد ہی جاری کردیئے جائیں گے۔