تلنگانہ ہائی کورٹ نے خیریت آباد کے ایم ایل اے دانم ناگیندر کے مبینہ پارٹی انحراف معاملے پر اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ دانم نا گیندر نے بی آرایس پارٹی کے ٹکٹ سے جیت کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
پارٹی انحراف معاملے پر سماعت
تلنگانہ ہائی کورٹ بنچ، نے پیر کے روز خیریت آباد رکن اسمبلی کے خلاف نااہلی کی درخواست پر سماعت کی، دانم ناگیندر کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ان نوٹسز پر چار ہفتوں میں وضاحت دی جائے۔
بی جے پی لیڈر کی عرضی
بی جے پی، رکن اسمبلی ایلیٹی مہیشور ریڈی نے یہ عرضی دائر کی ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کے اس فیصلے کو چیلنج کیا کہ دانم ناگیندر نے اپنی پارٹی نہیں بدلی ہے۔ مہیشور ریڈی نے دلیل دی کہ بی آر ایس ،ایم ایل اے کے طور پر جیتنے والے دانم نے حالیہ لوک سبھا انتخابات کانگریس پارٹی کے 'بی فارم' پر لوک سبھا الیکشن لڑا تھا۔ اس تناظر میں ا سپیکر نے عدالت سے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور دانم کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی۔
دانم ناگیندر اور اسمبلی اسپیکر کو نوٹس
درخواست کی سماعت کرنے والی ہائی کورٹ نے جواب دہندگان، دانم ناگیندر اور اسمبلی اسپیکر کو نوٹس جاری کیا۔ بعد ازاں اگلی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔اس دوران دانم ناگیندر اور اسپیکر کو عدالت میں اپنی وضاحتیں پیش کرنی ہوں گی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ تلنگانہ کی سیاست میں گرما گرم موضوع بن چکے اس مسئلہ پر ہائی کورٹ کا کیا فیصلہ آئے گا۔
کاونٹر داخل کرنے کی ہدایت
تلنگانہ ہائی کورٹ نے پیر کو ایم ایل اے دنم ناگیندر اور تلنگانہ لیجسلیلیٹی سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ بی جے پی لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر الیٹی مہیشور ریڈی کی پٹیشن کا کاؤنٹر داخل کریں، جس میں ناگیندر کے خلاف ان کی نااہلی کی درخواست کو خارج کرنے کے اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ منظور کردہ حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔
اس معاملے پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔اور ایم ایل اے اور لیجسلیچر سکریٹری کو نوٹس بھیجنے کا حکم دیا۔ بی جے پی لیڈر نے جولائی 2024 میں ان کی طرف سے دائر نااہلی کی درخواست کو مسترد کرنے کے اسپیکر کے حکم کو کالعدم کرنے اور اسے ایک طرف رکھنے کی ہدایت کی درخواست کی ہے۔
دانم ناگیندر پر الزام
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ دانم ناگیندر، جو 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، نے رضاکارانہ طور پر کانگریس کے امیدوار کے طور پر لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا تھا۔عرضی گزار نے استدلال کیا کہ ناگیندر نے بی آر ایس سے استعفیٰ دیئے بغیر کانگریس کے ٹکٹ پر سکندرآباد لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا، اس طرح دستور کے دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کی طرف راغب ہوا۔
مہیشور نے دعوی کیا کہ اسپیکر نے اس بات کی جانچ کیے بغیرنااہلی کی درخواست کو خارج کر دیا کہ آیا ایم ایل اے نے رضاکارانہ طور پر پارٹی کی رکنیت چھوڑ دی ہے۔مہیشور ریڈی نے کرناٹک اور بہار میں اسی طرح کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا۔اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار نے 11 مارچ کو ناگیندر اور ایک اور ایم ایل اے کڈیم سری ہری کی نااہلی کی درخواستوں کو خارج کر دیا جنہوں نے مبینہ طور پر 2024 میں کانگریس سے وفاداریاں تبدیل کی تھیں۔