تلنگانہ کے وزیر برائے انڈومنٹ،اور جنگلات کونڈا سریکھا اور پنچایت راج اور خواتین و اطفال کی بہبود کی وزیر داسری سیتا اکا نے جمعرات کواپوزیشن لیڈر، کے چندر شیکھر راؤ سے ایراولی فارم ہوز میں ملاقات کی۔ سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس چیف کے سی آر نے تلنگانہ کے ریاستی وزراء کونڈا سریکھا اور سیتااکا کو خوش آمدید کہا۔ وزراء نے کے سی آر کو میڈارم سمککا-سرالمہ جاترا کادعوت نامہ پیش کیا۔ کےسی آر نے انہیں ہلدی، زعفران، ساڑھی اور تنبول سے نوازا۔کے سی آر اور ان کی اہلیہ شوبھما نے مہمانوں کی طرح ان کے ساتھ حسن سلوک کیا۔
وزراء نے کے سی آر کو دعوت نامہ اور پرسادم پیش کیا اور انہیں ریاستی حکومت کی جانب سے جاترا میں مدعو کیا جو چند دنوں میں شروع ہونے والا ہے۔ وزراء نے کے سی آر جوڑے کی طرف سے دی گئی چائے پارٹی کو قبول کیا۔ بعد میں انہوں نے کے سی آر کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ سابق ایم پی جوگینا پلی سنتوش کمار نے ایراولی فارم ہاؤس پر وزراء کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر انہیں ایک شال اور دعوت نامہ بھی پیش کیا گیا۔ اسی طرح انہیں میڈرام پرسادم بھی پیش کیا گیا۔ انہوں نے کچھ دیر باہمی فائدے کے بارے میں بات کی۔ تبادلہ خیال کے بعد خواتین وزراء وطن واپس پہنچ گئیں۔قبل ازیں، جیسے ہی خواتین وزراء اپنی گاڑیوں سے ایراویلی میں کے سی آر کی رہائش گاہ کے قریب اتریں، سابق ایم پی جوگینا پلی سنتوش کمار نے پھولوں کے گلدستے پیش کرکے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
سمکا سرلما جاترا یا میڈارم جاترا ایک قبائلی تہوار ہے جنوبی ہند کی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں ایک دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔اس جاترا کی وجہ سے دنیا کے اعظم ترین اجتماعات میں سے ایک یہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس جاترا کا آغاز میڈارم سے شروع ہوتا ہے جو تاڈوائی منڈل سے ہوتا ہے جو جے شنکر بھوپل پلی ضلع میں واقع ہے۔ دیوی سے متعلق رسوم کی ادائیگی کویا قبیلے کے پجاری کویا رسم و رواج کے حساب سے ادا کرتے ہیں۔
میڈارم ایک بہت ہی دور دراز کے ایتورنگرم جنگل کی محفوظ گاہ میں واقع ہے، جو دنڈاکارنیہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ دکن سطح مرتفع کا سب سے بڑا باقی ماندہ جنگلوں کا قطعہ ہے۔ اس جاترا کو ایسے وقت منایا جاتا ہے جب قبائل یہ سمجھتے ہیں کہ دیوی ان سے ملاقات کرنے پہنچتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کمبھ میلہ کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ عقیدت مند یہاں جمع ہوتے ہیں۔
آرٹی سی کی جانب سے ریاست کے مختلف علاقوں سے چار ہزار بسیں چلائی جارہی ہیں۔حکومت نے 1996میں اس جاترا کو ریاستی تہوار کا درجہ دیا تھا۔ میڈارم جاترا کے سلسلہ میں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کی جانب سے خصوصی ٹرینیں مسافرین کے ہجوم سے نمٹنے کے لئے چلائی جارہی ہیں۔پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے جارہے ہیں۔ساتھ ہی ٹریفک کو باقاعدہ بنانے کے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں۔