آج کی تیز رفتار زندگی، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے باعث جہاں دل کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دماغ کی شریانوں کے امراض (Cerebrovascular Diseases) بھی تیزی سے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ اعصاب کے مطابق یہ بیماریاں صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوزائیدہ بچوں، نوجوانوں اور درمیانی عمر کے افراد بھی ان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور جدید علاج سے ان بیماریوں کے خطرناک نتائج سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
دماغ کی شریانیں کیوں حساس ہوتی ہیں؟
دماغ کی خون کی شریانوں کو اینڈ ویسلز (End Vessels) کہا جاتا ہے، یعنی دماغ کے ہر حصے کو خون پہنچانے کے لیے متبادل راستہ موجود نہیں ہوتا۔ اگر کسی شریان میں رکاوٹ آ جائے یا وہ پھٹ جائے تو متعلقہ حصے کو آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغی خلیات چند منٹوں میں متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دماغی بیماریوں میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
دماغ کی شریانوں کی اہم بیماریاں
برین اینیورزم (Brain Aneurysm)
اس بیماری میں دماغ کی کسی شریان کی دیوار کمزور ہو کر غبارے کی طرح پھول جاتی ہے۔ اگر یہ اینیورزم پھٹ جائے تو دماغ میں شدید خون بہنا شروع ہو جاتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ مریض اکثر اپنی زندگی کا "سب سے شدید سردرد" محسوس کرتا ہے۔
ایتھروسکلروسیس (Atherosclerosis)
اس بیماری میں شریانوں کی اندرونی دیواروں پر کولیسٹرول اور چربی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ پہلے یہ مسئلہ زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب جنک فوڈ، تمباکو نوشی اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث نوجوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
مویا مویا بیماری (Moyamoya Disease)
یہ ایک نایاب بیماری ہے جس میں دماغ کی بڑی شریانیں آہستہ آہستہ تنگ یا بند ہونے لگتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں اور نوجوانوں میں بھی فالج کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اے وی ایم (AVM) اور ڈیورل فسٹولا
ان بیماریوں میں شریانوں اور رگوں کے درمیان غیر معمولی رابطہ قائم ہو جاتا ہے، جس سے خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور دماغ کے اندر خون بہنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
فالج کی اقسام اور علامات
فالج کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں:
ہیمرجک اسٹروک (Hemorrhagic Stroke): شریان پھٹنے سے دماغ میں خون بہنا۔
اسکیمک اسٹروک (Ischemic Stroke): خون کا لوتھڑا شریان بند کر دیتا ہے، جس سے دماغ کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔
اہم علامات
اچانک اور شدید ترین سردرد
جسم یا چہرے کے ایک حصے میں کمزوری یا سن ہونا
بولنے میں دشواری یا زبان کا لڑکھڑانا
نظر دھندلا جانا یا ختم ہونا
توازن برقرار رکھنے میں مشکل
بچوں میں اچانک گر جانا، جسم کا ایک حصہ کمزور ہونا یا آنکھوں کی غیر معمولی حرکت
اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت علاج دماغی نقصان کو کم کر سکتا ہے۔
جدید تشخیصی طریقے
طبی ٹیکنالوجی نے دماغی بیماریوں کی تشخیص کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور تیز بنا دیا ہے۔
سی ٹی انجیوگرافی (CT Angiography): چند منٹوں میں شریانوں کی رکاوٹ یا خون بہنے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ڈیجیٹل سبسٹریکشن انجیوگرافی (DSA): شریانوں کی انتہائی واضح تھری ڈی تصویر فراہم کرتی ہے اور علاج کی منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔
ایم آر پرفیوژن امیجنگ (MR Perfusion Imaging): دماغ کے ان حصوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں خون اور آکسیجن کی کمی ہو رہی ہو۔
جدید علاج
مکینیکل تھرومبیکٹومی
اگر مریض بروقت اسپتال پہنچ جائے تو بغیر کھوپڑی کھولے کیتھیٹر کے ذریعے خون کے لوتھڑے کو نکال دیا جاتا ہے، جس سے فالج کے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔
سرجیکل کلپنگ
اینیورزم کی جڑ پر خصوصی دھاتی کلپ لگا کر اسے پھٹنے سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔
اینڈوویسکولر کوائلنگ اور اسٹینٹنگ
یہ کم تکلیف دہ طریقہ ہے جس میں باریک کیتھیٹر کے ذریعے اینیورزم کو خصوصی کوائلز سے بھر دیا جاتا ہے یا اسٹینٹ لگا کر خون کے بہاؤ کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔
برین بائی پاس سرجری
مویا مویا جیسے مریضوں میں ایک صحت مند شریان کو دماغ کی متاثرہ شریان سے جوڑ کر خون کی فراہمی بحال کی جاتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی اصول اپنانا انتہائی ضروری ہے۔
ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں۔
سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز کریں۔
متوازن غذا استعمال کریں اور فاسٹ فوڈ سے اجتناب کریں۔
روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
باقاعدگی سے ورزش کریں اور وزن کو متوازن رکھیں۔
کسی بھی غیر معمولی سردرد، کمزوری یا بولنے میں دشواری کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔
نتیجہ
دماغ کی شریانوں کے امراض جان لیوا ضرور ہیں، لیکن جدید طبی سہولیات اور بروقت علاج کی بدولت ان کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دماغی بیماریوں میں ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی امداد حاصل کرنا نہ صرف مریض کی جان بچا سکتا ہے بلکہ مستقل معذوری سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ طبی معائنہ اور بیماری کی بروقت تشخیص ہی دماغ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
مزید جانکاری کے لئے یہاں کلک کریں