مڈل ایسٹ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان چھڑی ہوئی جنگ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پیچیدہ اور خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ کا اثر مڈل ایسٹ سے باہر بھارت سمیت پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ تجارتی اور حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم سٹریٹ آف ہرمز کو حالیہ دنوں میں تہران نے بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں رہائشی گیس اور پیٹرول-ڈیزل کی شدید قلت شروع ہو گئی، جس نے عالمی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایران کا ٹرمپ کو جواب:
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر اسٹریٹ آف ہرمز کو 'مکمل طور پر نہیں کھولا گیا' تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں (پاور پلانٹس) پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس بیان نے دنیا کے سب سے اہم توانائی کے راستوں میں سے ایک کے حوالے سے تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی درمیان رپورٹس کے مطابق ،ایران نے اس اہم سمندری راستے کے حوالے سے اپنے رویے میں معمولی نرمی کا اشارہ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) میں ایران کے نمائندوں نے کہا ہے کہ اسٹریٹ آف ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، سوائے ان جہازوں کے جو 'دشمن ممالک' سے منسلک ہیں۔ ایران کا اشارہ واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف ہے۔ ایران کے اس فیصلے سے بھارت نے راحت کی سانس لی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ایران نے بھارت کے دو ایل پی جی سے لدے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی۔
تاہم ایران کا یہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر اسٹریٹ آف ہرمز کو نہیں کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا جائے گا۔