• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کیا للن سنگھ ہوں گے کے بہار کے اگلے وزیر اعلی؟اس رہنما نےکی سی ایم بنانے کی مانگ

کیا للن سنگھ ہوں گے کے بہار کے اگلے وزیر اعلی؟اس رہنما نےکی سی ایم بنانے کی مانگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 22, 2026 IST

کیا للن سنگھ ہوں گے کے بہار کے اگلے وزیر اعلی؟اس رہنما نےکی سی ایم بنانے کی مانگ
نتیش کمارکے بعد بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے مہاگٹھ بندھن کی طرف سے بڑی مانگ سامنے آئی ہے۔ مہاگٹھ بندھن میں شامل آئی آئی پی کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا جے ڈی یو کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر للن سنگھ کو اگلے سی ایم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اتوار 22 مارچ  کو میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے یہ بڑا بیان دیا ہے۔
 
للن سنگھ کو بتایا سوشلسٹ رہنما:
 
اکھل بھارتیہ پان مہاسنگھ کی طرف سے منعقد پروگرام میں آئی پی گپتا موجود تھے۔اس دوران  انہوں نے کہا:میں تو چاہتا ہوں کہ کوئی پسماندہ یا انتہائی پسماندہ سی ایم بنے، لیکن جس طرح سے بیانیہ بنایا جا رہا ہے،شری کرشن بابو کو دیکھیے، کرپوری ٹھاکر کو دیکھیے یا پھر لالو یادو کو دیکھیے، نتیش کمارکو دیکھیے، سب سوشلسٹ پس منظر کے لوگ رہے ہیں اور بہار کو سوشلسٹوں نے چلایا ہے، ہمارے پاس ایک اور رہنما ہے جو سوشلسٹ پس منظر سے ہے اور وہ مسلسل کرپوری ٹھاکر اور نتیش کمارکے ساتھ رہے ہیں تو کیوں نہیں للن سنگھ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے؟
 
آئی پی گپتا نے للن سنگھ کے بارے میں مزید کہا کہ وہ ایک سوشلسٹ رہنما ہیں اور سوشلسٹ رہنما ہی بہار کو چلا سکتا ہے۔ اس سوال پر کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ اس کا سی ایم بنے، انہوں نے کہا:وہ تو چاہ ہی رہی ہے، ہم کہاں کچھ کہہ رہے ہیں،بنائیے جلدی بنائیے!
 
'سوشلسٹ کے ہاتھ میں بہار دے دیجیے'
 
اس دوران آئی پی گپتا سے پوچھا گیا کہ آپ نے للن سنگھ کا نام لیا، وہ تو سورن سماج سے آتے ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا:عوام نے تو قبول کر لیا ہے نا،اس بار سورن سماج سے زیادہ رہنما جیت کر آئے ہیں۔ زیادہ راجپوت، زیادہ بھومیہار جیتے ہیں، اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ کیسے جیتے؟ اور بات ذات کی نہیں ہے،للن سنگھ سوشلسٹ رہنما ہیں، تو سوشلسٹ کے ہاتھ میں بہار دے دیجیے، میرے کہنے کا یہی مطلب ہے۔
 
مہاگٹھ بندھن کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا کے اس بیان سے بی جے پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ بتایا جائے کہ اس بار بی جے پی چاہتی ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کا وزیر اعلیٰ ہو۔ یہ موقع وہ کسی حال میں نہیں چھوڑنا چاہتی۔ ایسے میں اگر اس طرح کی مانگیں اٹھنے لگیں تو لازمی ہے کہ بی جے پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔