نئی دہلی:پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیاجارہے وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ حکومت اپنی عددی برتری کے بل پر اسے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل میجوریٹورین اپروچ اور غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔ اس بل کو زبردستی ایوان میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتی حقوق کو غصب کرنے کی کوشش ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں حکومت:
انھوں نے جس طر ح اس کو بنایا ہے ، اور جس ارادہ اور رویہ کے ساتھ اس کو پیش کررہے ہیں ، وہ مسلمانوں کا معاملہ مسلمانوں کے خلاف ہے ۔ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی، مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔بطور اقلیت، میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بل ناقابل قبول ہے، اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی اور ہم ہر قانونی اور پرامن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
لوک سبھا میں کتنے ممبران پارلیمنٹ ہیں؟
بتا دیں کہ وقف بل کو آج لوک سبھی میں پیش کر دیا گیا ہے ،لوک سبھا میں فی الحال 542 ممبران ہیں۔ بل کی منظوری کے لیے 272 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت ضروری ہے۔ اس وقت بی جے پی کے پاس 240 ایم پی ہیں۔حکومت کو جنتا دل یونائیٹڈ کے 12، ٹی ڈی پی کے 16، لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے 5، راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے 2 اور شیو سینا کے 7 ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔این ڈی اے کے پاس کل 293 ایم پی ہیں، جو کہ اکثریت کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ہے۔ اپوزیشن انڈیا اتحاد کے پاس 238 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔