تروملا کے پرساد میں ملاوٹی گھی کا معاملہ دن بہ دن طول پکڑتا جارہا ہے۔ اس معاملے پر اب پھر سے دوبارہ مباحثے شروع ہوگئے ہیں ۔ وائی سی پی لیڈر و سابق ٹی ٹی ڈی چیئرمین وائی وی سبا ریڈی نے پریس کانفرنس کرتے ہوے موجودہ ٹی ٹی ڈی چیئرمین بی آر نائیڈر پر شدید الزامات عائد کئے۔ انھوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں ملاوٹی گھی کی نشاندہی چندرا بابونائیڈو کے دور حکومت سال 2014 سے 19 دوران ہی ہوئی تھی۔
وائی سی پی حکومت نے جن ٹینکروں کو ریجیکٹ کیا تھا۔ وہیں ٹینکر سپلائی ہوے ہیں۔ انھوں نے بی آر نائیڈو سے فورن استعفی کا مطالبہ کیا۔ وائی وی سبا ریڈی نے کہا کہ فی الحال اندا پور ڈیری جو ہیریٹیج کا یونٹ ہے وہیں گھی سپلائی کررہا ہے۔ سی بی آئی انکوائری میں تمام حقائق منظر عام پر آجائیں گے۔ انھوں نے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔
چارج شیٹ میں 36 افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے، جن میں TTD کے سابق ملازمین، دودھ کی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، ماہرین اور دیگر شامل ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں بلکہ ایک منظم سازش تھی جس میں ٹنڈرز، کوالٹی چیک اور ادائیگیوں میں ملی بھگت شامل تھی۔
جعلی گھی کی تیاری اور سپلائی
چارج شیٹ کے مطابق، اتراکھنڈ کی بھولے بابا آرگینک ڈیری (Bhole Baba Organic Dairy) نے 2019 سے 2024 کے درمیان تقریباً 68 لاکھ کلوگرام (6.8 ملین کلوگرام) ملاوٹ شدہ گھی TTD کو فراہم کیا، جس کی مالیت تقریباً 250 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ "گھی" اصل میں دودھ سے تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ پام آئل، پام کرنل آئل، پامولین اور کیمیکلز جیسے acetic acid esters، monoglycerides، بیٹا کیروٹین اور مصنوعی ذائقہ استعمال کر کے لیبارٹری میں بنایا گیا تھا۔
اس مصنوعی گھی کو خالص گھی کی طرح دکھانے کے لیے لیبارٹری ٹیسٹس (جیسے Reichert-Meissl ویلیو) کو دھوکہ دینے کے لیے کیمیکلز کا استعمال کیا گیا تاکہ یہ TTD کے معیار کی جانچ سے گزر سکے۔ تحقیقات میں یہ بھی واضح ہوا کہ گھی میں کوئی جانوروں کی چربی (جیسے بیف ٹیلو یا lard) نہیں تھی، بلکہ یہ مکمل طور پر ویجیٹیبل آئلز اور کیمیکلز پر مبنی تھا۔ بھولے بابا ڈیری کے ڈائریکٹرز پومل جین اور وِپن جین کو مرکزی ملزمان قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کو 2022 میں بلیک لسٹ کرنے کے باوجود، انہوں نے دیگر کمپنیوں (جیسے سری ویشنوی ڈیری) کے نام سے سپلائی جاری رکھی۔
آندھرا پردیش حکومت نے فروری 2026 میں ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر دنیش کمار کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا، جو TTD کی انتظامی خامیوں، ٹنڈرنگ میں ناکامی اور کوالٹی کنٹرول کی کمزوریوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ کمیشن نے 3 مارچ 2026 کو اپنا کام شروع کیا۔
سیاسی تنازعہ، مارچ 2026 میں آندھرا پردیش قانون ساز کونسل میں اس معاملے پر شدید بحث ہوئی۔ حکمراں اتحاد (ٹی ڈی پی کی قیادت میں) نے سابق حکومت (YSRCP) پر ضوابط میں نرمی اور پرسادم کی تقدس کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، جبکہ اپوزیشن نے جوابی الزامات عائد کیے۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ نے جانوروں کی چربی کے الزام کو مسترد کر دیا، جس سے سیاسی تنازعہ مزید بھڑک اٹھا۔
مستقبل کے اقدامات
ریاستی حکومت اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت نیا قانون لانے، مندروں کو فراہم کیے جانے والے مواد کے معیار کو کنٹرول کرنے اور مجرموں کے لیے تیز رفتار ٹرائل والی خصوصی عدالتوں کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ TTD نے اب سخت کوالٹی چیک اور شفاف ٹنڈرنگ کا نظام نافذ کیا ہے تاکہ devotees کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ یہ گھوٹالہ نہ صرف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہے بلکہ عوامی اداروں میں بدعنوانی کی گہرائی کو بھی عیاں کرتا ہے۔ مقدمے کی سماعت جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔