انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا سے ملحقہ بیکاسی میں پیر کی دیر رات دو ٹرینوں کی ٹکر ہو گئی، جس میں 14 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔سرکاری ریلوے کمپنی پی ٹی کےریٹا اے پی انڈونیشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بوبی رسیدین نے بتایا کہ منگل کی صبح تک 14 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ رسیدین نے بتایا کہ کم از کم 84 افراد زخمی ہیں۔ ٹرین کے ملبے میں پھنسے ہوئے لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
کیسے ہوا حادثہ؟
پیر کی رات جکارتا کے بیرونی علاقے بیکاسی تیمور اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کھڑی ہوئی تھی۔ اسی دوران ایک لمبی دوری کی ٹرین آرگو برومو انگگرِک نے اس کے پچھلے ڈبے میں ٹکر مار دی۔
جس ڈبے میں ٹکر لگی، وہ ڈبا صرف خواتین کے لیے مخصوص تھا۔ حادثے کے بعد زور دار دھماکے کی آواز آئی اور چیخیں گونج اٹھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آرگو برومو انگگرِک ٹرین میں سوار تمام 240 مسافروں کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔
انڈونیشیا میں ریل حادثات عام:
انڈونیشیا کی قومی ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی (KNKT) نے ریل حادثے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ حادثے کے بعد متاثرہ لائن پر ٹرینوں کا آمدورفت روک دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے پرانے ریل نیٹ ورک پر حادثات عام بات ہو گئی ہیں۔ جنوری 2024 میں مغربی جاوا صوبے میں دو ٹرینوں کی ٹکر ہوئی تھی، جس میں کم از کم 4 افراد کی موت ہوئی تھی۔ سال 2019 سے 2023 تک ملک میں تقریباً 63 ریل حادثات ہو چکے ہیں۔