امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ملک کے بڑے آئل ریفائنرز کے نمائندوں کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ انہوں نے کمپنیوں کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ عوام کو پمپ پر کم قیمت ادا کرنی پڑے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ٹرمپ نے ریفائننگ کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے ریفائننگ کمپنیوں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ ملک میں ایندھن کی پیداوار بڑھانے کے طریقے تلاش کریں۔میٹنگ میں ریگولیٹری قوانین میں تبدیلی، تیزی سے اجازت دینے کے عمل اور نئی سرمایہ کاری جیسے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ ٹرمپ کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بڑھے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو۔
پٹرول 4 ڈالر اور ڈیزل 6 ڈالر فی گیلن سے اوپر
امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں حالیہ عرصے میں کافی بڑھ گئی ہیں۔ پٹرول کی قومی اوسط قیمت تقریباً 4 ڈالر فی گیلن جبکہ ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت مئی میں 4.50 ڈالر فی گیلن سے زیادہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ چکی ہے، لیکن اب بھی فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں تقریباً 1 ڈالر زیادہ ہے۔
بایوفیول کے قوانین پر بھی بحث
میٹنگ کے دوران ریفائننگ کمپنیوں کے نمائندوں نے وفاقی بایو فیول ملاوٹ کے قوانین کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ امریکی قانون کے تحت ریفائنرز کو پٹرول اور ڈیزل میں مکئی سے تیار ایتھنول، سویا سے تیار بایو ڈیزل اور دیگر قابل تجدید ایندھن شامل کرنا ہوتا ہے۔ کچھ ریفائنرز کا کہنا ہے کہ موجودہ کوٹے ان کے لیے بہت زیادہ ہیں اور متبادل ایندھن کی لازمی ملاوٹ سے پٹرول کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔
چھوٹی ریفائنریوں کو چھوٹ دینے پر اختلاف
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں کچھ چھوٹی ریفائنریوں کو بایو فیول کے لازمی کوٹے سے چھوٹ دی ہے۔ بڑی ریفائنریوں کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے کہ چھوٹی کمپنیوں کو دی گئی چھوٹ کی وجہ سے جو مقدار کم ہوئی ہے، اسے دوسری ریفائنریوں کو پورا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اور تیل کی صنعت کے درمیان اس معاملے پر اختلاف برقرار ہے۔
ایران جنگ نے قیمتوں کا مسئلہ بڑھایا
ٹرمپ نے ریفائنرز کی میٹنگ ایسے وقت میں بلائی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی نے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتیں کم دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اب تک وہ یہ یقین کے ساتھ نہیں بتا سکے کہ نومبر کے انتخابات سے پہلے قیمتیں کتنی کم ہوں گی۔
وینزویلا سے مزید خام تیل لینے کی کوشش
امریکی حکومت وینزویلا سے مزید خام تیل امریکہ لانے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔ خاص طور پر خلیج میکسیکو کے ساحل پر موجود وہ ریفائنریاں اس خام تیل کو پروسیس کرنے کے لیے موزوں ہیں جو وینزویلا سے آتا ہے۔صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وینزویلا سے آنے والے اضافی تیل کو امریکہ کی ہر ریفائنری تک پہنچانا جغرافیائی اعتبار سے آسان نہیں ہوگا۔ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے خام تیل کی امریکی ریفائنریوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں امریکی حکومت نے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں ایک بڑے معاہدے کے ذریعے طویل مدتی رسائی حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے، وینزویلا کے کمزور بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے اس سے امریکی پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان کم ہے۔
اگلے چند ہفتوں میں قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کی امید
امریکی توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے میٹنگ کے بعد کہا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند ہفتوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر نیچے کی طرف دباؤ دیکھنے کو ملے گا۔ اس پوری صورتحال نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بھی پیدا کر دیا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتیں براہِ راست امریکی عوام کے روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتی ہیں اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یہ مسئلہ مزید اہم ہو سکتا ہے۔
صارفین سے زیادہ قیمت وصول کرنے کا الزام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریفائنری مالکان پر صرف پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ان پر صارفین سے زیادہ قیمت وصول کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ ٹرمپ نے اس معاملے کی امریکی محکمہ انصاف سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بڑی ریفائننگ کمپنیوں کو اپنے زیادہ منافع کا کچھ حصہ صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
ٹیکساس میں نیا خطرہ
امریکی ریفائنریاں پہلے ہی تقریباً مکمل صلاحیت کے قریب کام کر رہی ہیں۔ اس لیے نئی ریفائنریاں بنانے کے بجائے موجودہ ریفائنریوں کو بڑھانے اور جدید بنانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ نئی ریفائنری بنانے میں بہت زیادہ لاگت، طویل منظوری کا عمل اور مستقبل میں پٹرول کی طلب سے متعلق غیر یقینی صورتحال بڑی رکاوٹیں ہیں۔ایک اور تازہ پیش رفت یہ ہے کہ امریکی خلیجی ساحل پر موجود ریفائنریوں کو ایک نئے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ ٹیکساس کے مشرقی علاقے میں سمندری طوفان کے خطرے کے باوجود بڑی ریفائنریوں نے فی الحال پیداوار جاری رکھی ہوئی ہے، لیکن حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔