لبنان کے صدر جوزف عون منگل کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات ان کے چار روزہ امریکہ کے دورے کے آخری دن ہوگی۔اس ملاقات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کئی مہینے چلنے والی جنگ کے بعد لبنان میں مستقل امن قائم کرنا ہے۔ لبنان چاہتا ہے کہ اسرائیل ، لبنان سے اپنی فوج واپس بلائے اور وہاں لبنانی فوج کو کنٹرول سونپا جائے۔
کیا بات چیت ہو رہی ہے؟
اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی مدد سے براہ راست بات چیت جاری ہے۔ دونوں ملکوں نے 26 جون کو ایک "فریم ورک معاہدے" کا اعلان کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دو بڑی باتیں طے ہوئی تھیں۔پہلی یہ کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج ہٹا لے گا۔ دوسری یہ کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار کم کرے گی۔یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کی طرف پہلا قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان اسرائیل بننے کے بعد سے تقریبا 80 سال سے کوئی سفارتی تعلق نہیں ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو بتایا کہ تین دیہات فرعون، شریفہ اور زوطر الغربیہ میں "پائلٹ زون" کے تحت کام شروع ہو گیا ہے۔ یہ تینوں دیہات اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ اس اعلان کے بعد لبنان اور اسرائیل کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔
روبیو کی عون سے ملاقات
صدر عون نے اتوار کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے کی مکمل حمایت کرے گا۔ انہوں نے اس ملاقات کو "بہت مثبت" قرار دیا۔روبیو نے کہا کہ جب تک حزب اللہ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا لبنان میں مکمل امن نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ملک میں ہتھیار صرف حکومت کے پاس ہوں۔روبیو نے یہ بھی کہا کہ لبنان کو صرف فوجی مدد نہیں چاہیے۔ ملک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ اور دوسرے ملکوں کی سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔
لبنانی فوج نے پچھلے ہفتے ان تینوں دیہات والے علاقے میں اپنی چوکیاں بڑھا دی ہیں۔ روم میں ہونے والی بات چیت میں سے بھی لگ رہا تھا کہ معاہدے پر جلد عمل شروع ہو جائے گا۔ لیکن ابھی تک اسرائیل نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے فوج نہیں ہٹائی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں ایک "سیکیورٹی زون" بنا کر وہاں اپنی فوج زیادہ دیر تک رکھنا چاہتے ہیں۔
حزب اللہ اور لبنان حکومت کا موقف
حزب اللہ نے امریکہ سے ہونے والی براہ راست بات چیت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ حزب اللہ چاہتا ہے کہ ایران امریکہ سے بات کرے اور جنگ ختم کروائے۔لبنان کی نئی حکومت 2025 کے شروع میں بنی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں حزب اللہ سمیت کسی بھی غیر سرکاری گروپ کے پاس ہتھیار نہیں ہونے چاہیے۔ حکومت حزب اللہ پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے مارچ میں اسرائیل پر راکٹ فائر کر کے ملک کو دوبارہ جنگ میں دھکیل دیا۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں لبنان پر زمینی حملہ اور بڑی فضائی بمباری کی تھی۔ اس جنگ میں 4 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 12 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔