مڈل ایسٹ میں جاری تنازع نے اب اور بھی خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی بڑی تباہی کی منظوری نہیں دینا چاہتے، لیکن اگر ضروری ہوا تو وہ ایسا کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں کریں گے۔
اس دوران اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے حملوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایران کے خفیہ وزیر اسماعیل خطیب اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیل نے سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی اور انقلابی گارڈز سے منسلک ایک جنرل کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے گیس وسائل "جنوبی پارس" پر بھی حملہ کیا ،جنوبی پارس فارس کی خلیج میں واقع ہے۔ ایران اسے اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے بے قابو نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جن کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے۔
ایران نے بھی اپنی جوابی کاروائی تیز کر دی ہے۔ اس نے قطر کے راس ا لفان گیس پلانٹ پر میزائل حملہ کیا، جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات کے حبشان گیس پلانٹ اور باب فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ :
اس تنازع کا اثر عالمی معیشت پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔ تنازع شروع ہونے کے بعد سے برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے ہرمز آبنائے پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ ایک اہم آبی راستہ ہے جس سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی سپلائی چینز پر بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
دونوں ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں :
اس دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملے مسلسل جاری ہیں۔ ایران نے ملٹی وارہیڈ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کیا، جن میں سے کچھ میزائلیں دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہیں۔ ایک میزائل ویسٹ بینک میں جا گری، جس کے نتیجے میں اس تنازع کے دوران اس علاقے میں پہلی بار لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس تنازع کا دائرہ اب لبنان تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔