بھوپال میں ماڈل ٹویشا شرما کی موت کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب موت کے صحیح وقت کو لے کر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کیس سے جڑے افراد کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں درج وقت ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے بعد تحقیقات کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
سائبر ایکسپرٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مکمل فرانزک جانچ کرائی جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فوٹیج میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق فرانزک جانچ سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت اور تاریخ کے اندراج میں کوئی تبدیلی کی گئی تھی یا نہیں۔
سائبر ایکسپرٹ نے کہا کہ اگر سی سی ٹی وی کے ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر یعنی ڈی وی آر کی سیٹنگز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو تو فرانزک جانچ اس حقیقت کو بھی سامنے لا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس عمل کے ذریعے وقت یا تاریخ کو آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے، جس سے واقعہ کے اصل وقت کو چھپانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایمس حکام نے پولیس سے لاش جلد تحویل میں لینے کی درخواست کی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زیادہ وقت گزرنے کی صورت میں لاش کے خراب ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے، اس لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹویشا شرما کے بھائی آشیش شرما نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے انہیں ایک تحریری اطلاع دی گئی ہے جس میں لاش لے جانے کیلئے کہا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے بڑے اسپتالوں میں بھی لاش محفوظ رکھنے کی مناسب سہولت موجود نہیں تو یہ نظام کس طرح کام کر رہا ہے۔
آشیش شرما نے کہا کہ ان کے خاندان کا موجودہ نظام اور تحقیقات پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹویشا شرما کی لاش فوری طور پر خاندان کے حوالے کی جائے تاکہ اسے اتر پردیش منتقل کیا جا سکے اور دہلی ایمس میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا جا سکے۔
فی الحال پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی جانچ کے بعد ہی معاملے کی اصل حقیقت سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔