Thursday, May 21, 2026 | 03 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • ٹویشا شرما کیس: ساس گری بالا سنگھ کے نئے دعوے، معاملہ نے لیا نیا رخ

ٹویشا شرما کیس: ساس گری بالا سنگھ کے نئے دعوے، معاملہ نے لیا نیا رخ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 19, 2026 IST

ٹویشا شرما کیس: ساس گری بالا سنگھ کے نئے دعوے، معاملہ نے لیا نیا رخ
ٹویشا شرما کیس میں متوفی خاتون کی ساس اور ریٹائرڈ جج گری بالا سنگھ نے کئی اہم دعوے کرتے ہوئے معاملے کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹویشا شرما حمل کے بعد اسقاط حمل کروانا چاہتی تھیں اور اسی معاملے کو لے کر گھر میں ذہنی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔
 
گری بالا سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی انہیں محسوس ہوگیا تھا کہ ٹویشا کے خیالات کافی آزاد نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق 17 تاریخ کو حمل کی تصدیق ہونے کے بعد ٹویشا کے رویے میں اچانک بڑی تبدیلی آ گئی تھی۔
 
انہوں نے کہا، “اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ بچے کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی۔ اسی شام جب میں دفتر سے گھر واپس آئی تو اس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ خود کو جسمانی نقصان پہنچا رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔”
 
گری بالا سنگھ کے مطابق انہوں نے ٹویشا کو سمجھانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہا کہ اگر وہ جانا چاہتی ہیں تو عزت کے ساتھ ان کے سفر کا انتظام کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں ٹویشا کی والدہ سے بھی بات کی گئی تھی۔
 
ساس نے مزید بتایا کہ 23 تاریخ کو ٹویشا کی والدہ ان کے گھر آئیں لیکن زیادہ دیر نہیں ٹھہریں۔ بعد میں 30 تاریخ کو دوبارہ آنے پر انہوں نے ایک بار پھر ایم ٹی پی یعنی اسقاط حمل کیلئے اسپتال جانے پر زور دیا۔
 
اپنے بیٹے سمرتھ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گری بالا سنگھ نے کہا کہ وہ شروع سے ہی ذہنی دباؤ میں تھا۔ ان کے مطابق مرد اکثر اپنے جذبات کھل کر ظاہر نہیں کر پاتے، لیکن سمرتھ مسلسل اس صورتحال سے پریشان تھا اور حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
 
انہوں نے کہا، “یہ کوئی بہت بڑا جھگڑا نہیں تھا، لیکن ذہنی تناؤ پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اگر کوئی شخص اندرونی کشمکش کا شکار ہو تو اس کے رویے پر اثر پڑنا لازمی ہے۔”
 
گری بالا سنگھ نے آخر میں کہا کہ سمرتھ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور اسے ایسا کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں ان کے خاندان کو بھی عوامی ہمدردی ملنی چاہیے۔
 
دوسری جانب اس حساس معاملے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پولیس اور متعلقہ حکام کی تحقیقات بھی بدستور جاری ہیں۔