بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک کی کانگریس حکومت پر دو سرکاری اسکول اساتذہ کو آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کرنے پر معطل کرنے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں اساتذہ کی معطلی کی ہدایت واپس لی جائے۔ مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے سیاسی نفرت اور انتقامی کاروائی کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے حکومت سے معطلی کا فیصلہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ پرہلاد جوشی نے کہا کہ ماضی میں بھی آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین کی شرکت پر کاروائی کے معاملات عدالتوں تک پہنچے ہیں اور عدالتوں نے ایسے معاملات میں اہم فیصلے دیے ہیں۔
کمارا سوامی نے بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا
مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارا سوامی نے بھی کانگریس حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اساتذہ نے آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کی تو انہوں نے کیا غلط کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کرنے سے کوئی نقصان یا تشدد ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے کی وضاحت کرنی چاہیے۔
شکایت کے بعد کاروائی آگے بڑھی
تازہ رپورٹس کے مطابق جوشی کے خلاف کاروائی کے لیے شکایت امبیڈکر سوابھیمانی سینے کے ضلع صدر جمنا گدیمنی نے کی تھی۔ محکمہ تعلیم نے بعد میں 13 مارچ 2026 کو جوشی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیا تھا۔
2 سرکاری اساتذہ کیوں معطل ہوئے؟
کرناٹک کے یادگیر ضلع کے دو سرکاری اسکول اساتذہ کو جمعرات کو معطل کیا گیا۔ ان میں ہُنسگی کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کے اسسٹنٹ ٹیچر گوروراج جوشی اور سورپور تعلقہ کے کوپی گاؤں کے گورنمنٹ لوئر پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر انا صاحب دیش مکھ شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق، دونوں اساتذہ نے آر ایس ایس کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ ان کی شرکت کرناٹک سول سروسز کنڈکٹ رولز 2021 کی خلاف ورزی ہے، اسی بنیاد پر دونوں کے خلاف کاروائی کی گئی۔
کانگریس حکومت کا مؤقف
کرناٹک کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی پریانک کھڑگے نے کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے اور محکمہ سمجھتا ہے کہ کاروائی ضروری ہے تو وہ کاروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سرکاری ملازمین کسی ایسی تنظیم کے پروگرام میں کیوں شرکت کریں جو حکومت کے مطابق رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔
ایک استاد نے اپنی صفائی بھی دی تھی
گوروراج جوشی نے محکمہ تعلیم کو دی گئی وضاحت میں کہا تھا کہ یہ پروگرام اتوار کے دن، اسکول کے اوقات کے باہر ہوا تھا اور ان کے مطابق یہ سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی پروگرام تھا۔ محکمہ تعلیم نے ان کی یہ وضاحت قبول نہیں کی۔
بی جے پی کے تازہ ردعمل میں ایک اور معاملہ بھی اٹھایا گیا
28 اگست کی رپورٹ میں پرہلاد جوشی نے اس معاملے کے ساتھ کرناٹک کے لاپتہ آئی اے ایس افسر گیانیندر کمار گنگوارکا معاملہ بھی اٹھایا اور حکومت پر سوال کیا کہ وہ اس افسر کو تلاش کرنے کے بجائے دو اساتذہ کو معطل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
اس معاملے پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی اختلاف بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، جبکہ کرناٹک حکومت کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے خلاف کاروائی سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق کی بنیاد پر کی گئی ہے۔