متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے مسلسل حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق ہونے کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ جاری رکھا ہے، تاکہ خطے میں بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ملک کو اس مسلط کردہ دہشت گردانہ حملے کے خلاف ردعمل دینے کا حق حاصل ہے، لیکن وہ عقل و تدبر کو ترجیح دے رہا ہے۔ گرگاش نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے آخری لمحے تک جنگ کو ٹالنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی مخلصانہ کوششیں کیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حالیہ حملے میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق، دارالحکومت میں پہلے ہونے والے حملوں میں ایک طاقتور ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے تین ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ عراق، جو طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان رہا ہے، 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں تیزی سے شامل ہوا۔
امریکہ میں بھی ایران سے متعلق کوریج پر تنازع بڑھ گیا ہے۔ امریکی نشریاتی ریگولیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکایت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ لائسنس کی تجدید سے پہلے اپنا موقف درست کریں۔ فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے ان نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے جن پر متعصب رپورٹنگ کا الزام ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کار نے ایران سے متعلق کوریج کے معاملے پر براہ راست کارروائی کی، جبکہ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں کوریج پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جسے وہ غیر ضروری طور پر تنقیدی یا غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔
یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی خطے اور بین الاقوامی سطح پر ایران کے اقدامات کے اثرات سیاسی، عسکری اور میڈیا دونوں محاذوں پر گہرائی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔