• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • لال قلعہ دھماکے پر اقوام متحدہ کا بڑا انکشاف، القاعدہ کی برصغیر شاخ اے کیو آئی ایس سے حملے کا تعلق سامنے آگیا

لال قلعہ دھماکے پر اقوام متحدہ کا بڑا انکشاف، القاعدہ کی برصغیر شاخ اے کیو آئی ایس سے حملے کا تعلق سامنے آگیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

لال قلعہ دھماکے پر اقوام متحدہ کا بڑا انکشاف، القاعدہ کی برصغیر شاخ اے کیو آئی ایس سے حملے کا تعلق سامنے آگیا
نومبر 2025 میں دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں اس حملے کو القاعدہ کی برصغیر ہند میں سرگرم شاخ، جسے القاعدہ برصغیر "اے کیو آئی ایس" کہا جاتا ہے، سے جوڑا گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اقوام متحدہ کی کسی دستاویز میں لال قلعہ دھماکے کو براہ راست اے کیو آئی ایس سے منسلک کیا گیا ہے۔ بھارت کی قومی تحقیقاتی"ایجنسی "این آئی اے" اس معاملے کی تحقیقات اب بھی کر رہی ہے اور اس نے ابھی تک اپنی حتمی رپورٹ جاری نہیں کی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

یہ معلومات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی 38ویں رپورٹ میں شامل ہیں۔ یہ رپورٹ اگست 2026 میں پیش کی گئی اور اس میں 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 تک دنیا بھر میں دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے کیو آئی ایس گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی سرگرمیوں کے انداز میں تبدیلی لا رہی ہے۔ پہلے یہ گروپ بڑے گروہوں کی شکل میں کام کرتا تھا، لیکن اب چھوٹے اور الگ الگ گروہوں کے ذریعے سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے چھوٹے گروہوں کا سراغ لگانا سکیورٹی اداروں کے لیے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ تنظیم نے اپنی مالی ضروریات اور دیگر انتظامات کے لیے الگ الگ نیٹ ورک بھی قائم کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں سرگرمیاں بڑھانے کا خدشہ

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اے کیو آئی ایس بنگلہ دیش میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے تنظیم کو جنوبی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنا اثر بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا بھی ذکر

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلسل افغان طالبان پر تحریک طالبان پاکستان "ٹی ٹی پی" کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے۔ ٹی ٹی پی پر پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار بڑھتے ہوئے تشدد نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا اور کئی مواقع پر فوجی کاروائیوں کا سبب بھی بنا۔ اے کیو آئی ایس کا ذکر پاکستان میں ہونے والے بعض حملوں کے حوالے سے بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں اتحاد المجاہدین پاکستان سے منسلک حملوں کا ذکر کیا گیا، جن میں بنوں میں ایک سکیورٹی چوکی کے قریب ہونے والا خودکش حملہ بھی شامل ہے۔

دہشت گرد گروہوں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض دہشت گرد گروہ اے آئی ٹولز کو اپنے پروپیگنڈا اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مانیٹرنگ ٹیم نے خاص طور پر داعش خراسان "آئی ایس آئی ایل-کے" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ پروپیگنڈا مواد کو مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرکے دہشت گردی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

غیر روایتی ہتھیاروں پر بھی تشویش

اقوام متحدہ کی ٹیم نےغیر روایتی  ہتھیاروں میں دہشت گرد تنظیموں کی دلچسپی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش سے منسلک ایک انگریزی زبان کے میگزین میں انتہائی زہریلے مادوں سے متعلق مواد شائع کیا گیا۔ مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق اس طرح کا مواد ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی غیر روایتی ہتھیاروں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں تبدیلی

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جائزہ لیے گئے عرصے کے دوران فہرست میں تین نئے نام شامل کیے گئے، جبکہ سات نام فہرست سے نکال دیے گئے۔ 27 فروری 2026 کو ایک اہم تبدیلی اس وقت ہوئی جب النصرہ فرنٹ، جسے حیات تحریر الشام کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،  اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔

لال قلعہ دھماکے کی تحقیقات جاری

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لال قلعہ دھماکے کو اے کیو آئی ایس سے جوڑے جانے کے باوجود بھارت میں اس حملے کی حتمی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس لیے رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات کو تحقیقات کے ایک اہم پہلو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حتمی طور پر حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں بھارتی تحقیقاتی اداروں کے نتائج کا انتظار ہے۔

پہلے کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اہم فرق

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے لال قلعہ دھماکے کو اے کیو آئی ایس سے منسلک کیا ہے، لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارتی تحقیقاتی ادارہ این آئی اے پہلے ہی اپنی تحقیقات میں اس حملے کے ملزمان کو انصار غزوات الہند کے ایک دھڑے سے جوڑ چکا تھا، جسے این آئی اے نے اے کیو آئی ایس کی ذیلی تنظیم قرار دیا ہے۔ این آئی اے نے مئی 2026 میں عدالت میں تقریباً 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں 10 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق ان تمام افراد کے تعلقات انصار غزوات الہند سے تھے۔ تحقیقات میں 588 افراد کے بیانات، 395 سے زیادہ دستاویزات اور 200 سے زائد ضبط شدہ اشیا کو ثبوت کے طور پر شامل کیا گیا۔

جون میں مزید تین افراد کو ملزم بنایا گیا

اس کیس میں این آئی اے نے جون 2026 میں مزید تین افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ اس کے بعد کیس میں چارج شیٹ کیے گئے افراد کی تعداد 13 ہوگئی۔ ان میں مظفر احمد بھی شامل ہے، جسے این آئی اے نے اہم ملزم قرار دیا ہے اور جو تاحال فرار ہے۔

ایک اور اہم بات

این آئی اے کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو گاڑی میں نصب دھماکا خیز آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ ایجنسی نے مرکزی ملزم عمر بن نبی کو اس حملے کا اہم منصوبہ ساز قرار دیا تھا، جو خود بھی دھماکے میں مارا گیا تھا۔