مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے درمیان ایران نے اپنی حکمت عملی سے اقوام متحدہ میں امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کو کراری شکست دی ہے۔اقوام متحدہ میں ان ممالک کی بڑی ہار ہوئی ہے۔ سلام ٹی وی کے مطابق روس، چین اور فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں عرب ممالک کی طرف سے پیش کی گئی ایک اہم تجویز کو روک دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، عرب ممالک نے آبنائے ہرموز کو کھولنے کے لیے فوجی کاروائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تجویز پر ووٹنگ ہوئی، لیکن امریکہ کے ایک قریبی اتحادی نے تجویز کے خلاف ویٹو کر دیا۔
روس، چین اور فرانس نے اپنی ویٹو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بحرین اور دیگر خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز کو مؤثر طور پر ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔
فرانس کا خبردار:
سلامتی کونسل کے کئی مستقل ارکان نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ یہ تجویز بحرین نے اپنے خلیجی ہمسایوں کے تعاون سے تیار کی تھی۔ تجویز میں ارکان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سمندری نقل و حمل میں رکاوٹ روکنے کے لیے 'تمام ضروری ذرائع'استعمال کر سکیں۔
تاہم، سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان روس، چین اور فرانس نے واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی ایسی زبان کی حمایت نہیں کریں گے جو فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے فوجی کارروائی کو 'غیر حقیقت پسندانہ' قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے ایران کے انقلابی گارڈز اور ان کی بالیسٹک میزائلوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔
ان کی شہادت کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ (ہرموز آبنائے) کو بند کر دیا تھا۔ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اس کی بندش سے عالمی توانائی کے بازار پر بڑا اثر پڑا اور تیل و شپنگ کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس ناکہ بندی کی وجہ سے قطر جیسے ممالک کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے بھی کیے، جن میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔
بحرین نے سلامتی کونسل میں ایران پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ایران شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ایران کی حکمت عملی اور روس، چین اور فرانس کے ویٹو کی وجہ سے عرب ممالک اور امریکہ کی تجویز ناکام ہو گئی ہے۔