آزاد سماج پارٹی کے قومی صدر اور ایم پی چندر شیکھر آزاد نے 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی سیاسی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے علاوہ ہر جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کے امکانات کھلے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کے ساتھ ممکنہ اتحاد کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، جو بھی ہمارے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا چاہتا ہے، اس کا خیرمقدم ہے۔ ہماری نظریاتی مخالفت صرف بی جے پی سے ہے، اس لیے بی جے پی کے علاوہ ہر جماعت کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ سیاسی ماہرین، چندر شیکھر آزاد کے اس بیان کو سماج وادی پارٹی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں، اگرچہ دونوں جماعتوں کی جانب سے کسی باضابطہ اتحاد کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
انٹرویو کے دوران چندر شیکھر آزاد نے 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا بھی ذکر کیا، اور کہا کے اس الیکشن میں ان کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس شکست نے انہیں مایوس ضرور کیا، لیکن انہوں نے اسے اپنی سیاسی جدوجہد کا اختتام نہیں بننے دیا۔ ان کے مطابق سیاست میں ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا ہی اصل امتحان ہوتا ہے، اور اسی عزم کے ساتھ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیا اور نگینہ سے کامیابی حاصل کی۔
چندر شیکھر آزاد نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے 45 انچارج مقرر کیے جا چکے ہیں اور تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عوامی مسائل کو ترجیح دے رہی ہے اور کارکن مسلسل زمینی سطح پر سرگرم ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ عوام کی حمایت اور پارٹی کی مسلسل محنت آئندہ انتخابات میں بہتر نتائج کی بنیاد بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اتر پردیش کی سیاست میں اتحاد اور سیاسی حکمت عملی اہم کردار ادا کریں گے، اور ان کی جماعت عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرے گی۔