ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تجارتی معاہدہ اب اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس پر تقریباً 98 سے 99 فیصد قانونی اور تکنیکی کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
واشنگٹن میں یو ایس۔انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سرجیو گور نے کہا کہ اب معاہدے کے صرف ایک سے دو فیصد نکات پر بات چیت باقی ہے، جنہیں جلد حتمی شکل دیے جانے کی امید ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی اہم علامت قرار دیا۔
امریکی سفیر نے بتایا کہ اس تجارتی معاہدے پر گزشتہ تقریباً 18 ماہ سے مسلسل کام جاری ہے۔ ان کے مطابق مختلف قانونی، تکنیکی اور پالیسی امور پر دونوں ممالک کے ماہرین نے تفصیلی مذاکرات کیے، تاہم بعض قانونی معاملات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے باعث اس عمل میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکی تجارتی نمائندے نے نئی دہلی کا دو روزہ دورہ کیا، جس کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ رفتار ملی۔ اس دورے کے بعد کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوا، جس سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی راہ مزید ہموار ہوئی۔
سرجیو گور نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بڑے تجارتی معاہدوں کی تکمیل میں عموماً کئی برس لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کے ساتھ امریکہ کے متعدد تجارتی معاہدوں کو مکمل ہونے میں 15 سے 20 سال تک کا وقت لگا، لیکن ہندوستان کے ساتھ یہ عمل نسبتاً بہت کم وقت میں آگے بڑھا، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سپلائی چین، جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ دونوں معیشتوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ تجارتی معاہدہ ہندوستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر باقی ماندہ مذاکرات بھی کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو یہ معاہدہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔