• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ، ایران مذاکرات اسلام آباد میں ناکام، 21 گھنٹے کی بات چیت بے نتیجہ ختم

امریکہ، ایران مذاکرات اسلام آباد میں ناکام، 21 گھنٹے کی بات چیت بے نتیجہ ختم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 12, 2026 IST

امریکہ، ایران مذاکرات اسلام آباد میں ناکام، 21 گھنٹے کی بات چیت بے نتیجہ ختم
پاکستان کے دارالحکومت میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان یہ بات چیت مسلسل 21 گھنٹے جاری رہی، جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازعات کو کم کرنا اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
 
امریکی نائب صدر J.D. Vance نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے سامنے اپنی “بہترین پیشکش” رکھی، لیکن ایران نے کسی بھی اہم شرط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور بالآخر کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
 
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بات چیت کا ماحول سنجیدہ اور تعمیری تھا، اور دونوں فریقین نے بنیادی مسائل پر کھل کر گفتگو کی، لیکن اختلافات اس حد تک گہرے تھے کہ انہیں ختم کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ امریکی وفد اب واپس واشنگٹن روانہ ہو رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال سفارتی پیش رفت رک گئی ہے۔
 
نائب صدر وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناکامی کی کوئی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر بہترین کارکردگی دکھائی اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے نہایت خلوص کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔
 
ایران کے لیے بڑا دھچکہ
 
وینس کے مطابق، معاہدے تک نہ پہنچ پانا ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ اس سے اس کی بین الاقوامی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اپنی شرائط پر قائم ہے اور کسی بھی دباؤ میں آکر مؤقف تبدیل نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان مذاکرات کی ناکامی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ آئندہ کسی نئے سفارتی عمل کے آغاز تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔