• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کیوں ناکام ہوئے ایران-امریکہ مذاکرات ؟ ہرمز، جوہری پروگرام سمیت کن مسائل پر نہ بن سکی اتفاق رائے

کیوں ناکام ہوئے ایران-امریکہ مذاکرات ؟ ہرمز، جوہری پروگرام سمیت کن مسائل پر نہ بن سکی اتفاق رائے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 12, 2026 IST

کیوں ناکام ہوئے ایران-امریکہ مذاکرات  ؟ ہرمز، جوہری پروگرام سمیت کن مسائل پر نہ بن سکی اتفاق رائے
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے اسلام آباد میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دونوں فریق تقریباً 21 گھنٹوں تک عام اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد امریکہ اور ایران دونوں نے ایک دوسرے پر سخت شرائط تھوپنے اور ضد والا رویہ اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ جن مسائل پر اتفاق رائے نہ بن سکا، ان کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
 
امریکہ نے کیا کہا؟
 
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکہ کی شرائط واضح تھیں، لیکن ایران نے انہیں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی حدود واضح کر دی تھیں کہ ہم کن باتوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں اور کن پر نہیں، لیکن انہوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں۔ ہم نے اچھے ارادے سے بات چیت کی اور ایرانیوں کو اپنی طرف سے بہترین پیشکش کی۔
 
جوہری ہتھیاروں کے مسئلے پر نہ بن سکی اتفاق رائے
 
وینس نے بتایا، ہمیں ایران سے یہ ٹھوس یقین دہانی دیکھنی ہوگی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور نہ ہی ایسے آلات حاصل کریں گے جن سے وہ جلد جوہری ہتھیار بنا سکیں۔ یہی امریکی صدر کا بنیادی مقصد ہے۔ ان مذاکرات کے ذریعے ہم نے یہی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیا ہمیں ایرانیوں کی طرف سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی کوئی ٹھوس یقین دہانی نظر آ رہی ہے؟ ابھی تک ہمیں یہ نہیں ملی، امید ہے کہ ملے گی۔
 
کن مسائل پر رہا اختلاف؟
 
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، امریکہ کی شرائط ضرورت سے زیادہ سخت تھیں، جس کی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز، جوہری پالیسی اور دیگر مسائل پر اختلافات دور نہ ہو سکے۔ فارس نیوز ایجنسی نے ایرانی وفد کے قریبی ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ جنگ کے دوران جو کچھ حاصل نہ کر سکا، وہ سب کچھ مذاکرات میں مانگ رہا تھا۔
 
ایرانی وزارت خارجہ نے بتائے اختلاف والے مسائل
 
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے کہا، یہ بات چیت کئی مسائل پر ہوئی تھی، جن میں آبنائے ہرمز، جوہری مسئلہ، جنگ کے نقصانات کا معاوضہ، پابندیاں ہٹانا اور ایران کے خلاف جاری جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا شامل تھا۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ آگے کوئی بات چیت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ بغائی نے کہا، ہم امریکہ کے وعدوں کو توڑنے کے تجربے کو نہ تو بھولے ہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔
 
بات چیت سے ہٹنے کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہا تھا امریکہ:دعوی
 
الجزیرہ کے مطابق، امریکہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر پابند نہیں ہو سکتا تھا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ واشنگٹن بات چیت سے پیچھے ہٹنے کے لیے ’بہانہ ڈھونڈ رہا تھا‘۔ رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ "بین الاقوامی فورمز پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس حاصل کرنے کے لیے امریکیوں کو بات چیت کی ضرورت تھی اور ایران کے ساتھ جنگ میں تعطل کے باوجود وہ شرائط میں نرمی کے لیے تیار نہیں تھے۔