جمعرات کے اوائل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مسلسل 12ویں رات بھی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے بھی جارحیت کے جواب میں سخت کاروائی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، تازہ حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ علاقائی پانیوں میں سویلین اور تجارتی بحری جہازوں کو خطرہ پہنچا رہا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کاروائیاں صدر کے ہدایات کے تحت کی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ کا ایران کو انتباہ
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بناتا ہے تو امریکہ اس کے جواب میں اہم بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ جواباً ایران کی اہم تنصیبات، جیسے پلوں اور بجلی گھروں پر حملہ کر سکتا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران نے امریکی کاروائیوں کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی پالیسی "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے اصول پر مبنی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک ایران کے خلاف کاروائی میں تعاون کریں گے، انہیں بھی ممکنہ طور پر ہدف سمجھا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرغالیباف نے(Mohammad Bagher Ghalibaf) بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو خطے میں کوئی بھی بنیادی تنصیب محفوظ نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس گزرتی ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ خام تیل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ تنازع شروع ہونے سے پہلے یہ تقریباً 72 ڈالر کے قریب تھی۔ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی، قیمتوں اور تجارت پر نمایاں اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلوں کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکہ اس راستے کو عالمی تجارت کے لیے آزاد رکھنے پر زور دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں خدشہ بڑھ گیا ہے۔