مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اس اہم سمندری راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تواسے سخت فوجی جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ کو ابھی تک اس بات کی ٹھوس اطلاع نہیں ملی کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، تاہم اگر ایسا کیا گیا ہے تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بارودی سرنگیں ہٹا دیتا ہے تو یہ کشیدگی کم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اس اہم آبی راستے میں بارودی سرنگیں بچھائیں اور انہیں فوری طور پر نہ ہٹایا تو اس کے سنگین فوجی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کسی بھی کشتی یا جہاز کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد یا گروہوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری دس روزہ لڑائی کے دوران تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ پنٹاگون کے ترجمان نے ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے زیادہ تر کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 108 فوجی صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ آٹھ امریکی فوجی تاحال شدید زخمی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
پنٹاگون کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی راکٹ اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں کویت اور سعودی عرب میں تعینات سات امریکی فوجیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اس راستے سے دنیا کے ایک بڑے حصے کو تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اس اہم سمندری راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اسے سخت فوجی جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ کو ابھی تک اس بات کی ٹھوس اطلاع نہیں ملی کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، تاہم اگر ایسا کیا گیا ہے تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بارودی سرنگیں ہٹا دیتا ہے تو یہ کشیدگی کم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔