Friday, September 04, 2026 | 20 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ نے ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کا مطالبہ

امریکہ نے ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 04, 2026 IST

امریکہ نے ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کا مطالبہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر امریکہ کا سخت موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جب تک ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ایران کو تجارتی جہازوں پر فائرنگ اور حملے روکنے ہوں گے۔ ان کے مطابق، ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
 
امریکی نائب صدر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صورتحال کو جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں ختم کر دی ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی اور جھڑپوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔جے ڈی وینس نے اس تنازع کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ بتانا ممکن نہیں کہ موجودہ کشیدگی مکمل طور پر کب ختم ہوگی۔ ان کے مطابق، صورتحال کئی عوامل پر منحصر ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔
 
دوسری جانب، واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے اپنی شرط برقرار رکھی ہے۔ امریکی موقف کے مطابق، تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کیے جانے تک ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں کشیدگی بڑھنے سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
 
جے ڈی وینس کے بیان سے واضح ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ اسے مکمل جنگ کے بجائے محدود فوجی کشیدگی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کے حوالے سے صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں بھی مرکوز ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں سفارتی رابطوں کے امکانات پر مسلسل بات چیت جاری ہے۔ تاہم فی الحال واشنگٹن نے مذاکرات کی بحالی کو تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیاں روکنے سے مشروط کر دیا ہے۔