Tuesday, September 15, 2026 | 01 ربيع الثاني 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • روس یوکرین کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائے تو حملے روک دیں گے: زیلنسکی

روس یوکرین کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائے تو حملے روک دیں گے: زیلنسکی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 15, 2026 IST

روس یوکرین کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائے تو حملے روک دیں گے: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر اتحادی ممالک روس سے اس بات کی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ روس یوکرین کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنائے گا تو یوکرین بھی روسی سرزمین پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔زیلنسکی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ 
 
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے اس مبینہ معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ روس کی جانب سے بھی ٹرمپ کے دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک روس سے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کرلیتے ہیں تو یوکرین بھی اس کے جواب میں روسی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گا۔
 
ٹرمپ کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل
 
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی پر زور دیا تھا کہ وہ روسی آئل ریفائنریوں اور ڈیزل کی پیداوار و ترسیل سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کریں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے یوکرین کو روس کی توانائی تنصیبات پر حملوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ زیلنسکی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین بھی اسی طرح کی ضمانت کے بدلے روسی سرزمین پر حملے روکنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ تاہم، روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے کسی باضابطہ معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
 
یوکرینی ٹرین پر حملے کو لے کر روس پر الزام
 
دوسری جانب یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے یوکرین کی ایک ٹرین پر روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کا مقصد مغربی ممالک کو خوفزدہ کرنا اور انہیں یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا تھا۔ فن لینڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کایا کالاس نے کہا کہ روس ایسے حملوں کے ذریعے مغربی ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت ترک کردیں۔
 
انہوں نے روسی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے خلاف جنگ کے دوران شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کایا کالاس نے واضح کیا کہ ان حملوں کے باوجود یورپ یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے امکانات اور فریقین کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو لے کر بھی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔