حالیہ دنوں جموں کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک انکاؤنٹر کیا گیا ،جس میں کہا گیا کہ مارےجانے والا شخص دہشت گرد تھا،لیکن اب سکیورٹی فورسز کے اس دعوے اور انکاؤنٹر نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
در اصل،محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے سکیورٹی فورسز کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مارےجانے والا نوجوان کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ مقامی رہائشی اور پی ڈی پی کا کارکن تھا،نوجوان کا نام رشید مغل ہے،جسے غلط طریقے سے "ملٹنٹ" قرار دیا گیا۔ساتھ ہی کشمیری نوجوانوں کی بےحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر واحد ریاست ہے جہاں بے گناہ نوجوانوں کومارنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ وہ ملٹنٹ تھا۔
جموں و کشمیر کے سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مسلم نوجوان کی موت پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔وہیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس مبینہ جعلی انکاؤنٹر کی مجسٹریٹ انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ جس میں رشید مغل نامی ایک نوجوان کا انکاؤنٹر کر دیا گیا۔
عمر عبداللہ پر التجا مفتی کی تنقید:
پی ڈی پی رہنما نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی غیر موجودگی پر بھی سوال اٹھائے۔ التجا نے کہا کہ اتنے سنگین واقعے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا سامنے نہ آنا اور خاموش رہنا کئی شکوک کو جنم دیتا ہے۔ التجا مفتی نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر رشید مغل کے خاندان کو انصاف نہیں ملا اور لاش واپس اہل خانہ کو نہیں سونپی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور حقیقت کی لڑائی ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 مارچ اور 1 اپریل کی درمیانی رات کو گندربال کے ارہاما میں فوج اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ کی بات سامنے آئی ۔ اس جھڑپ میں رشید مغل نامی نوجوان مارا گیا ۔ فوج نے اسے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ تاہم، بعد میں رشید مغل کے اہل خانہ نے اس انکاؤنٹر کو جعلی بتایا۔ اس کے بعد پورے جموں و کشمیر میں اس پر ہنگامہ شروع ہو گیا۔
تنازعہ کو طول پکڑتا دیکھ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے رشید مغل انکاؤنٹر کیس کی مجسٹریٹ انکوائری کے احکامات دیے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ہر حال میں شفاف طریقے سے 7 دن میں انکوائری مکمل کرنے کے ہدایات جاری کیں۔ اس فیصلے کا بی جے پی نے بھی خیر مقدم کیا ہے اور بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ غیر جانبدار، شفاف اور مقررہ وقت کے اندر ہونے والی انکوائری نہ صرف عوام کا اعتماد مضبوط کرے گی بلکہ یہ بھی ثابت کرے گی کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں کوئی بھی عام آدمی غیر محفوظ محسوس نہیں کرے گا۔