Wednesday, March 25, 2026 | 05 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • پریگننسی میں تاخیر: وجوہات،علاج اور احتیاطی تدابیر

پریگننسی میں تاخیر: وجوہات،علاج اور احتیاطی تدابیر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 25, 2026 IST

پریگننسی میں تاخیر: وجوہات،علاج اور احتیاطی تدابیر
آج کے دور میں بہت سے شادی شدہ جوڑے پریگننسی میں تاخیر (Delayed Pregnancy) کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں کی صحت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ منصف ٹی وی کےاسپیشل  پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر سیدہ ارم فاطمہ (انکورا ہاسپٹل، عطاپور حیدرآباد) سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ قارئین آپ ڈاکٹر   کی  مکمل بات چیت   یہاں کلک کرکے دیکھ سکتےہیں۔
 

۔

پریگننسی میں تاخیر کب مسئلہ بنتی ہے؟

ڈاکٹر کے مطابق اگر کوئی جوڑا صحت مند ہو اور کسی بڑی بیماری کا شکار نہ ہو تو ایک سال تک باقاعدہ کوشش کے بعد 90 فیصد کیسز میں حمل ٹھہر جاتا ہے۔ تاہم اگر خاتون کی عمر 35 سال سے زیادہ اور مرد کی عمر 40 سال سے زائد ہو یا پہلے سے کوئی طبی مسئلہ موجود ہو تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

 حمل میں تاخیر کی اہم وجوہات:

پریگننسی میں تاخیر کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
 
  • ہارمونل عدم توازن
  • پی سی او ایس (PCOS)
  • تھائیرائیڈ کے مسائل
  • ذہنی دباؤ (Stress)
  • غیر صحت مند طرزِ زندگی
  • وزن کا زیادہ یا کم ہونا
  • سگریٹ نوشی اور الکحل کا استعمال

مردوں کا کردار بھی اہم

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حمل نہ ٹھہرنے کی ذمہ داری صرف خواتین پر ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد کیسز مردانہ مسائل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ سگریٹ اور شراب کا استعمال اسپرم کی کوالٹی کو متاثر کرتا ہے، جس سے حمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

عمر اور زرخیزی (Fertility)

ماہرین کے مطابق 20 سے 30 سال کی عمر حمل کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ 30 سال کے بعد بیضہ دانی کی کارکردگی بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ 35 سال کے بعد مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

کب کروائیں ٹیسٹ؟

  • ایک سال تک مسلسل کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرے
  • عمر زیادہ ہو
  • پہلے سے کوئی بیماری موجود ہو
  • ماہواری بے قاعدہ ہو
ایسے میں ڈاکٹر سے مشورہ لے کر بلڈ ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ اور مردوں کا سیمین اینالیسس کروانا مفید ثابت ہوتا ہے۔

علاج کے طریقے:

اگر قدرتی طور پر حمل نہ ٹھہرے تو جدید میڈیکل طریقے دستیاب ہیں، جیسے:
 
IUI (انٹرا یوٹرین انسیمینیشن)
IVF (ٹیسٹ ٹیوب بے بی)
 
یہ طریقے محفوظ ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔

طرزِ زندگی میں بہتری ضروری

ماہرین کے مطابق صحت مند غذا، مناسب وزن، باقاعدہ ورزش، ذہنی سکون اور بری عادات سے پرہیز پریگننسی کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔

نوٹ:

پریگننسی میں تاخیر کوئی شرم یا گھبراہٹ کی بات نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج مسئلہ ہے۔ جوڑوں کو چاہیے کہ صبر اور حوصلے سے کام لیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ درست معلومات اور مثبت طرزِ زندگی اس مسئلے کا بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔
ہر جوڑے کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک خوشحال خاندان قائم کرے۔ مناسب رہنمائی، بروقت علاج اور صحت مند عادات اپنا کر اس خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔