منصف ٹی وی کے خصوصی ہیلتھ پروگرام میں ڈاکٹرمیرجوادزرخان نے Osteoporosis اور کمر و گردن کے درد سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹیوپوروسس ایک خاموش بیماری ہے جس میں ہڈیوں کی مضبوطی وقت کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے، اور اکثر اس کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق انسانی جسم میں ہڈیوں کی زیادہ سے زیادہ مضبوطی تقریباً 30 سال کی عمر تک حاصل ہو جاتی ہے، اس کے بعد اگر مناسب غذا اور ورزش نہ کی جائے تو ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد میں معمولی گرنے سے بھی فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی بڑی وجہ آسٹیوپوروسس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے، جس کے لیے بون ڈینسٹی ٹیسٹ (DEXA اسکین) ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں کی مضبوطی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
غذا کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ رagi، تل، دودھ، پنیر اور دیگر قدرتی غذائیں کیلشیم کے بہترین ذرائع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دھوپ میں وقت گزارنا اور باقاعدہ ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔
کمر اور گردن کے درد پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل زیادہ تر افراد طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جس سے ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا ہے اور “سلپ ڈسک” جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ غلط بیٹھنے کا انداز، بھاری وزن اٹھانے کا غلط طریقہ اور جسمانی سرگرمی کی کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ہر گھنٹے بعد چند منٹ چہل قدمی کی جائے، درست پوسچر اپنایا جائے اور ہلکی پھلکی ورزش کو روزمرہ کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق تقریباً 90 فیصد کمر درد کے مسائل بغیر سرجری کے علاج اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، مناسب ورزش، جسمانی وزن پر قابو اور بروقت طبی معائنہ انتہائی ضروری ہیں۔ ان سادہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف آسٹیوپوروسس بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ قارئین ڈاکٹرمیرجوادزرخان کی مکمل گفتگو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔