اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں واقع نندا دیوی نیشنل پارک کے تحت پھولوں کی وادی (ویلی آف فلاورز) رینج میں گزشتہ پانچ دنوں سے جنگل کی آگ مسلسل بھڑک رہی ہے۔ یہ آگ، جو 9 جنوری کوپلنا–بھُیوندار کے سامنے والی پہاڑی پر لگی تھی اور یہ آگ ابھی تک قابو میں نہیں آئی۔ دشوار گزار علاقے اور اونچائی کی وجہ سے محکمہ جنگلات کی گراؤنڈ ٹیمیں جائے وقوعہ تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
3500 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع وادی میں آگ
پھولوں کی وادی رینج کے جس علاقے میں آگ لگی ہے، وہ تقریباً 3500 میٹر سے زائد بلندی پر واقع ہے۔ چٹانی ڈھلوانیں، پالا اور گھنی دھند امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ طویل عرصے سے بارش اور برفباری نہ ہونے کے باعث جنگلات مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں، جس سے آگ کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ بجھانے کی تیاری
محکمۂ جنگلات نے زمینی سطح پر آگ بجھانے کی کئی کوششیں کیں، مگر علاقہ انتہائی دشوار گزار ہونے کے باعث کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پیر کے روز محکمۂ جنگلات نے ضلع انتظامیہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ بجھانے کی درخواست کی۔
ضلع مجسٹریٹ گورو کمار نے فوری طور پر حکومت کو اس معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد منگل کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقے کی ریکی (فضائی جائزہ) کرائی گئی۔ اس دوران اوپر سے پانی چھڑکنے (واٹر بکٹ) کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وادی کے دوسری جانب پھیلی ہوئی ہے آگ
ریکی کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ آگ پھولوں کی وادی کے دوسری طرف واقع پہاڑی پر پھیلی ہوئی ہے، جہاں پیدل یا کسی اور ذریعے سے پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔ جنگلات کے محافظ آکاش ورما نے بتایا کہ آگ کو دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
ریاستی سطح پر بھی جنگل کی آگ کو لے کر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ منگل کو پرنسپل سیکریٹری جنگلات آر کے سدھانشو کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اب تک کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔