Wednesday, July 01, 2026 | 14 محرم 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • اتراکھنڈ میں مدارس اب نئے تعلیمی نظام کے تحت

اتراکھنڈ میں مدارس اب نئے تعلیمی نظام کے تحت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 01, 2026 IST

اتراکھنڈ میں مدارس اب نئے تعلیمی نظام کے تحت
اتراکھنڈ نے بدھ (یکم  جولائی) سے اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے باضابطہ خاتمے کے ساتھ اپنے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی شروعات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ریاست میں تمام تسلیم شدہ مدارس اب ریاستی اقلیتی تعلیمی ادارہ اتھارٹی کے تحت آئیں گے، جو ان کی شناخت، نصاب، انتظامیہ اور ریگولیٹری فریم ورک کی نگرانی کرے گا۔
 
یہ اقدام اتراکھنڈ کو ملک کی پہلی ریاست بناتا ہے جس نے اپنے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ختم کردیا اور تسلیم شدہ مدارس کو اسکول جیسے ریگولیٹری نظام میں ضم کردیا۔ ریاستی حکومت نے اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ اب صرف مذہبی تعلیم ہی کافی نہیں ہے مدارس کے طلباء کو جدید تعلیمی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے انہیں قومی تعلیمی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

نئے آرڈر کے تحت کیا تبدیلی آئے گی؟

نئے رپورٹ کے مطابق اب ریاست بھر کے تمام رجسٹرڈ مدارس میں اسکولی نصاب پڑھایا جائے گا۔ اسکولوں پر لاگو ہونے والے تمام اصول اور معیار اب ان مدارس پر بھی لاگو ہوں گے۔ مدارس کو اس نئے نظام کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ انہیں NCERT پر مبنی نصاب اپنانا  ہوگا  جو قومی تعلیمی معیارات پر پورا اترتا ہو اور جدید مضامین میں بھی ہدایات فراہم کرتا ہو۔
 
اتراکھنڈ میں تقریباً 500 غیر تسلیم شدہ مدارس ہیں جہاں برسوں سے اسلامی تعلیم دی جاتی ہے، اور یہ ادارے اب بحران کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اتراکھنڈ کے مدارس میں تقریباً 60,000 سے 70,000 طلبہ پڑھتے ہیں۔
 
روایتی مذہبی تعلیم کے علاوہ، قومی تعلیمی معیارات کے مطابق NCERT پر مبنی اسکول کا نصاب اب مدارس میں پڑھایا جائے گا۔طلباء کو سائنس، ریاضی اور کمپیوٹر اسٹڈیز جیسے جدید مضامین میں بھی ہدایات ملیں گی۔حکومت ان مدارس کے خلاف سخت موقف اپنائے گی جو اتھارٹی کے قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتے اور ایسے اداروں کو بند کر دیا جائے گا۔ریاست میں ان تمام تسلیم شدہ مدارس کو اب نئے ضوابط کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

غیر تسلیم شدہ مدارس کا کیا ہوگا؟

توقع ہے کہ اس پالیسی کا ریاست میں کام کرنے والے سینکڑوں غیر تسلیم شدہ مدارس پر  گہرا، اثر پڑے گا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق، اتراکھنڈ میں تقریباً 500 مدارس اسلامی تعلیم فراہم کرتے ہوئے کئی سالوں سے سرکاری شناخت کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ اب نئی ریگولیٹری سسٹم  کے ساتھ، ان اداروں کو بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ مقررہ اصولوں اور ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام مدارس بند ہو سکتے ہیں۔اتراکھنڈ نے مدرسہ بورڈ کو ختم کر دیا آج سے اسکول کے عمومی قوانین لاگو ہوں گے۔