ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف اتوار سے جاری عوامی احتجاج جمعرات 1 جنوری 2026 کوپُرتشددروپ اختیار کرلیا۔جس میں 6 افراد کی موت ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ایران میں شدید احتجاج کئی دنوں سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ احتجاج حکومت کے احکامات کے خلاف ہو رہے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ اس کی مخالفت میں ہے، زیادہ تر جگہوں پر کاروبار اور دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کےدرمیان جھڑپوں میں کئی افراد کی جان جانے کی خبر ہے۔ان جھڑپوں میں پاسدران انقلاب کے ایک اہلکار کی بھی موت ہوئی ہے۔اور کئی سکیورٹی فورسز زخمی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، سکیورٹی اہلکاروں نے سات افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ان افراد کا تعلق امریکہ اور یورپ میں مقیم ان گروپوں سے ہے جو اسلامی ربپلک کے خلاف ہیں۔
وہیں شدید احتجاج کی وجہ سے حکام نے اچانک عوامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے 31 میں سے 21 صوبوں میں کاروبار، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بند ہو چکے ہیں۔ احتجاج کے پیچھے ملک میں کئی دنوں سے پیدا ہونے والی معاشی اور سیاسی وجوہات ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہیں۔ ان میں تہران، شیراز، اصفہان، کرمانشاہ اور فاسا سمیت کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
احتجاج اور حکومت کی امن قائم کرنے کی اپیل:
ایرانی حکومت نے مظاہرین سے امن و امان قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں حکومت سے اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کہا ہے۔
وہیں یہ احتجاج ایرانی کرنسی ریال میں شدید گراوٹ سے قیمتوں میں اضافہ کے بعد شروع ہوا۔ ضروریات زندگی متاثر ہونے کی وجہ سے عوام احتجاج پر اتر آئے۔اس احتجاج کا اثر یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کے درمیان بھی دیکھنے کو ملا۔ مظاہرین نے یہاں بے روزگاری، پانی کی کمی اور انتظامی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
2022 کے بعد سب سے بڑا احتجاج:
ایران کے دارالحکومت تہران سے ان مظاہروں کی پُرامن شروعات ہوئی تھی جو تہران کے حدود سے نکل کر دیگر شہروں تک پہنچ گئی۔ ان مظاہروں کو 2022 میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے بعد سے سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ مانا جا رہا ہے۔ امینی ایک نوجوان خاتون لیڈر تھیں۔ ان پر تب ایران کی مورل پولیس نے حجاب ٹھیک سے نہ پہننے کا الزام لگایا تھا۔جسکے بعد انہیں حراست میں لیا گیا اور دوران حراست انکی موت ہو گئی،جسکے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔
خیال رہے کہ،ایران پر طویل عرصے سے امریکہ اور بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں ۔جسکی وجہ سے ایرانی ریال مسلسل گراوٹ کا شکار ہے،ایرانی معیشت مسلسل ان پابندیوں کے زیراثر ہے۔حال ہی میں ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بھی ہوئی.