ممبئی کے دادر علاقے میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کو خاتون مظاہرین کو پکڑتے اور گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل سامنے آیا اور ممبئی پولیس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے گئے۔
کانگریس لیڈر نے کاروائی کا مطالبہ کیا
ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پولیس اہلکار کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک مرد پولیس اہلکار نے خاتون مظاہرین کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کیا اور خواتین پولیس اہلکاروں کو یہ ذمہ داری کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے افسر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو بھی اپنی پوسٹ میں ٹیگ کیا۔
ممبئی پولیس کا دفاع
ممبئی پولیس نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والا افسر دراصل ایک مرد مظاہرین کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا، اسی دوران خاتون مظاہرین درمیان میں آ گئی۔اس معاملے کی تحقیق کی گئی اور معاملے کا جائزہ لینے والے سینئر افسران کو اس کے عمل میں کوئی غلطی نظر نہیں آئی۔
ویڈیو پر اٹھتے سوالات
دوسری جانب ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ویڈیو کے مطابق پولیس اہلکار پہلے ایک مرد مظاہرین کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ہنگامے کے دوران اس کا ہاتھ ایک خاتون مظاہرین پر پڑ جاتا ہے۔ ویڈیو کے بعد کے حصے میں اہلکار خاتون کو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا نظر آتا ہے، جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔
روہت پوار نے پولیس کے دعوے پر سوال اٹھائے
این سی پی (ایس پی) لیڈر روہت پوار نے ممبئی پولیس کی وضاحت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اہلکار کو معلوم ہو گیا تھا کہ اس نے مرد کے بجائے ایک خاتون کو پکڑ لیا ہے، تو اسے فوراً پیچھے ہٹ جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے پولیس کے دفاع کو مسترد کیا۔
ممبئی پولیس کے رویے پر دوسرا تنازع
یہ دو دنوں میں دوسرا معاملہ ہے جس میں ممبئی پولیس کے رویے پر سوال اٹھے ہیں۔ جمعرات کو بھی ایک پولیس اہلکار کو معطل کیا گیا تھا، جس پر الزام تھا کہ وہ ویڈیو میں مظاہرین کو منشیات کے جھوٹے کیس میں گرفتار کرنے کی دھمکی دیتا ہوا نظر آیا تھا۔