وقف (ترمیمی) بل کو لوک سبھا میں منظور کر لیا گیا۔ ایوان نے بل کو 288 کے مقابلے میں 232 ووٹوں سے منظور کر لیا۔اس اہم بل کی منظوری کے لیے ایوان کا اجلاس رات تقریباً 2 بجے تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ مسلم وقف (منسوخ) بل، 2024، جو مسلم وقف ایکٹ، 1923 کو منسوخ کرتا ہے، کو بھی ایوان میں صوتی ووٹ سے منظور کیا گیا۔ اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو ایوان میں بل پیش کیا اور بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے۔
بحث کے بعد، جب کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل 2025 پر غور کے لیے تحریک پیش کی، تو کچھ اپوزیشن اراکین نے ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ تاہم کئی ارکان کو لابی صاف کرنے کے بعد ایوان میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ اپوزیشن ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں بیت الخلاء کا انتظام صرف لابی میں کیا گیا ہے اور ارکان کو صرف لابی سے ہی اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ باہر سے کسی کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔
حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تین ترامیم کو ایوان نے منظور کر لیا اور بل میں دفعہ 4A اور 15A کا اضافہ کر دیا گیا۔ بل پر ووٹنگ کے وقت وزیراعظم نریندر مودی اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی لوک سبھا میں موجود نہیں تھے۔
کرن رجیجو بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سماج کے ہر طبقے کا خیال رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کے ان الزامات پر اعتراض کیا کہ ملک میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیا ہے کہ اس بل سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ آج کے دن کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل سے کروڑوں مسلم خواتین اور بچوں کو فائدہ ہوگا۔
اپوزیشن نے اس بل پر کئی اعتراضات اٹھائے۔ اپوزیشن نے کہا کہ اس سے وقف بورڈ کی خود مختاری میں مداخلت ہوگی اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت کی مداخلت ہوگی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی نے بل کی مخالفت کی اور اپنے خیالات پیش کرنے کے بعد بل کی کاپی پھاڑ دی۔
بحث میں مداخلت کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ یہ حکومت ہند کا قانون ہے اور سب کو اسے ماننا ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ سماج میں انتشار پھیلا رہے ہیں اور مسلمانوں کو ڈرا کر ووٹ بینک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران شاہ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور آرٹیکل 370 کے معاملے پر اپوزیشن کے دعووں کو بھی مسترد کردیا۔انھوں نے کہا کہ سی اے اے کے نفاذ کے بعد کسی مسلمان نے اپنی شہریت نہیں کھوئی ہے اور آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد عمر عبداللہ جیسے لیڈر جموں و کشمیر میں انتخابات جیت کر واپس آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات میں بہتری آئی ہے۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کم ہوئی ہے اور ترقی اور سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔
بل کو پیش کرتے ہوئے مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ وقف کے پاس تیسرا سب سے بڑا لینڈ بینک ہے۔ یہ ریلوے اور آرمی کی زمینیں ہیں۔ یہ سب ملک کی ملکیت ہے۔ وقف جائیداد نجی ملکیت ہے۔ ہمارے ملک میں دنیا میں سب سے زیادہ وقف املاک ہیں۔ آپ 60 سال سے اقتدار میں ہیں پھر بھی مسلمان اتنے غریب کیوں ہیں؟ یہ ان کے کام کیوں نہیں آیا؟ غریبوں کی بہتری اور فلاح کے لیے کوئی کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر ہماری حکومت غریب مسلمانوں کے لیے کام کر رہی ہے تو اس میں اعتراض کیا ہے؟ آپ لوگ جو اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، ملک صدیوں یاد رکھے گا کہ کس نے بل کی حمایت کی اور کس نے مخالفت کی۔ کب تک مسلمانوں کو گمراہ کرتے رہو گے۔ ملک میں اتنی وقف املاک ہے، اسے بے استعمال نہیں رہنے دیں گے۔ اسے غریبوں اور باقی مسلمانوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
کانگریس ایم پی گورو گوگوئی نے کہا کہ یہ ایک ایسا بل ہے جو آئین کی بنیادی روح پر حملہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت کی نظریں ایک مخصوص برادری کی زمین پر ہیں، کل وہ دوسری اقلیتوں کی زمین پر نظریں جمائے گی، ترامیم کی ضرورت ہے۔ انہونے کہا کہ کے مودی حکومت ریاستی حکومت کی طاقت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وقف (ترمیمی) بل 2024 کو حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ کمیٹی نے پانچ ماہ میں 38 اجلاسوں کے بعد اپنی تجاویز دیں۔ وقف (ترمیمی) بل 2025، کمیٹی کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے بدھ کو اسمبلی میں پیش کیا گیا۔اب سب کی نظریں راجیہ سبھا پر ہیں، جہاں اس بل پر آج بحث ہونے کی امید ہے۔