آج وقف ترمیمی بل کو لوک سبھا میں غور و خوض اور منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔وقفہ سوالات کے بعداس بل کو پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد 8 گھنٹے کی بحث ہوگی۔جس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔بی جے پی اور کانگریس اور ان کی اتحادی جماعتوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کوآج دن بھر ایوان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے وہپ جاری کیے ہیں۔بی جے پی اور کانگریس اوران کے اتحادیوں نے بھی اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کو 2 اور 3 اپریل کو پارلیمنٹ میں موجود رہنے کے لیے وہپ جاری کیا ہے۔سماج وادی پارٹی کے چیف وہپ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کو 2 اپریل کو ایوان میں موجود رہنے اور وقف ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لینے کے لیے 3 لائن کا وہپ جاری کیا ہے۔
وقف ترمیمی بل پر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ ایک غیر آئینی بل ہے۔ ہم آئین پریقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ ناگپور کا قانون مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمیں بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہم گنگا جمنی تہذیب پر یقین رکھتے ہیں۔تیجسوی یادو نے کہا کہ ہم اس بل کی مخالفت کریں گے ۔
اسکے علاوہ وقف ترمیمی بل پر سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق نے کہا کہ ہم اس بل کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ بل پہلی بار ایوان میں لایا گیا تھا تو ہماری پارٹی اور ہمارے لیڈر اکھلیش یادو نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بل ایوان میں آئے گا تو ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ ساتھ ہی کا نگریس کے رکن پارلیمنٹ اور جے پی سی کے رکن عمران مسعود نے کہا کہ ہم وقف ترمیمی بل پربحث کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 14، 16، 25، اور 26 کی مکمل خلاف ورزی ہے۔