آسام اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے واضح کہا ہے کہ وہ ریاست میں یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
انتخابی نتائج اور مسلم نمائندگی:
4 مئی کو آنے والے نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔ اس الیکشن میں کل 20 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جن میں سے دو کا تعلق مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی AIUDF سے ہے۔ خود مولانا بدرالدین اجمل بھی اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔
یو سی سی (UCC) پر سخت موقف:
میڈیا سے گفتگو کے دوران جب مولانا اجمل سے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے اس دعوے کے بارے میں پوچھا گیا کہ حکومت بنتے ہی یو سی سی نافذ کیا جائے گا، تو انہوں نے کہا:ہم پہلے بھی یکساں سول کوڈ کے خلاف تھے اور آج بھی اس کے خلاف ہیں۔ جیسے ہی اسے نافذ کرنے کی کاروائی شروع ہوگی، ہم اپنی آواز بلند کریں گے، احتجاج کریں گے اور اسے لاگو نہیں ہونے دیں گے۔
کانگریس پر تنقید: "اب یہ مسلم لیگ بن چکی ہے"
بات چیت کے دوران مولانا بدرالدین اجمل نے کانگریس پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کانگریس کو 'مسلم لیگ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی کانگریس ایک ایسی جماعت تھی جس میں تمام مذاہب اور طبقات کے لوگ شامل تھے، لیکن اب یہ صرف ایک مخصوص طبقے کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
اسمبلی میں 'مظلوموں' کی آواز بننے کا عزم:
مولانا اجمل نے یقین دلایا کہ اگرچہ اس بار ان کی پارٹی کے صرف دو ہی ایم ایل اے (MLAs) ہیں، لیکن وہ اسمبلی میں عوام کے مسائل بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا:ہمارے دو ممبران اسمبلی سو (100) پر بھاری ثابت ہوں گے۔جس طرح ہم پارلیمنٹ میں طاقتور آواز اٹھاتے رہے ہیں، اسی طرح اس بار آسام اسمبلی میں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب اور ذاتوں کے مظلوم لوگوں کے حق کے لیے لڑیں گے۔
بی جے پی کی جیت اور مولانا اجمل کے اس سخت تیور کے بعد یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں آسام اسمبلی میں یو سی سی اور دیگر سماجی مسائل پر زبردست سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔