مغربی بنگال میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (TMC) کے درمیان جاری زبانی جنگ اب عدالت تک پہنچ چکی ہے۔ اسی دوران ترنمول کانگریس نے 21 مئی کو کولکتہ سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ ریاست میں ہاکرز (پھیری والوں) کو زبردستی ہٹایا جا رہا ہے اور اقلیتی برادری کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے ہاوڑہ اسٹیشن، سیالدہ اسٹیشن اور بالی گنج جیسے اہم علاقوں میں کیے جائیں گے۔
بی جے پی کو دہلی کے اقتدار سے بے دخل کریں گے: ممتا بنرجی
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کالی گھاٹ میں پارٹی ممبرانِ اسمبلی (MLAs) کے ایک اہم اجلاس کے دوران بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آئین کی اصل روح کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اقلیتی برادریوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور غریب ہاکرز کی دکانوں پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں بی جے پی کو دہلی کے اقتدار سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔پارٹی رہنماؤں کے مطابق، یہ تمام احتجاجی مظاہرے مکمل طور پر جمہوری اور پرامن طریقے سے کیے جائیں گے۔
مجھے کسی کاروائی کا خوف نہیں: ابھشیک بنرجی
ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی نے بی جے پی پر دباؤ کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی تفتیش یا قانونی کاروائی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا،وہ جو چاہیں کر لیں، بی جے پی کے خلاف میری جدوجہد جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ ابھشیک بنرجی کے خلاف بدھان نگر نارتھ سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر (FIR) درج کی گئی ہے۔ اس شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران ان کی تقاریر اشتعال انگیز تھیں۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیاۓ سنہتا (BNS) اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ پہنچی ٹی ایم سی:
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ریاست کے کئی حصوں میں تشدد، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر تنازع برقرار ہے۔ ترنمول کانگریس نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے، جس میں پارٹی کارکنوں کے تحفظ اور ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کولکتہ، ہاوڑہ اور دیگر اضلاع میں ان کے کارکنوں اور دفاتر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اسی کیس کی سماعت کے دوران 14 مئی کو ممتا بنرجی خود وکیلوں کا روایتی کالا کوٹ (چوغا) پہن کر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچی تھیں، اور ان کی یہ تصویریں سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھیں۔