• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مغربی بنگال کی سیاست گرمائی، ترنمول قیادت کے متضاد بیانات نے انتخابی فضا مزید تیز کر دی

مغربی بنگال کی سیاست گرمائی، ترنمول قیادت کے متضاد بیانات نے انتخابی فضا مزید تیز کر دی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 12, 2026 IST

مغربی بنگال کی سیاست گرمائی، ترنمول قیادت کے متضاد بیانات نے انتخابی فضا مزید تیز کر دی
مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے دوران سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھ گیا ہے، جہاں حکمران جماعت ترنمول کانگریس اور اپوزیشن کے درمیان بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے دعوے اور الزامات نے ریاستی سیاست کو مزید متحرک اور کشیدہ بنا دیا ہے۔
 
ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش  نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے عوام ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں اور ایک بار پھر بی جے پی کو مسترد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں سڑکوں، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچے ہیں۔ کنال گھوش کے مطابق عوام میں یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ ترنمول کانگریس ہی ریاست کی ترقی کی ضامن ہے، اور آئندہ انتخابات میں بھی وہی اقتدار میں واپس آئے گی۔
 
دوسری جانب انتخابی سرگرمیوں کے دوران ایک اور سیاسی بیان نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ سابق اداکار اور سیاستدان شترو گھن سنہا  نے کہا ہے کہ ایک وائرل ویڈیو کے باعث پارٹی رہنما ہمایوں کبیر کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی رائے متاثر ہوئی اور متعلقہ سیاسی جماعت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔
 
شتروگھن سنہا نے پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہمایوں کبیر اڑان بھرنے سے پہلے ہی ڈھیر ہوگئے”، جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ سیاسی طور پر مضبوط ہونے سے پہلے ہی انہیں عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے انتخابی ماحول پر واضح اثر ڈالا ہے اور پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
 
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی بنگال میں آنے والے انتخابات سے قبل ایسے بیانات نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ووٹرز کی رائے پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ حکمران جماعت جہاں ترقیاتی کاموں کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، وہیں اپوزیشن مختلف الزامات اور ویڈیوز کے اثرات کو موضوع بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔