بھارت میں کئی صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس پر اچانک عارضی پابندی لگا دی گئی، جس سے وہ 24 گھنٹوں تک ایپ کی مختلف سہولیات استعمال نہیں کر سکے۔ اس اچانک جائزے کی خبر نے صارفین کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں پہلے سے کوئی وارننگ یا اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اچانک اکاؤنٹس کیوں بند ہوئے؟
رپورٹس کے مطابق، پیر کی شام متعدد صارفین نے دیکھا کہ ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس پر ایک پیغام ظاہر ہو رہا ہے، جس میں بتایا گیا کہ ان کا اکاؤنٹ جائزے کے تحت ہے۔ اس دوران وہ ایپ کی مختلف خصوصیات استعمال نہیں کر سکتے، جس پر کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا۔
واٹس ایپ نے کیا وضاحت دی؟
اس معاملے پر واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل کام کرتی ہے۔ اگر کسی اکاؤنٹ کی سرگرمی کمپنی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتی ہوئی نظر آئے تو اس اکاؤنٹ کو عارضی طور پر جائزے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق، کمپنی ایسے لوگوں سے آگے رہنے کی کوشش کرتی ہے جو واٹس ایپ کا غلط استعمال کرتے ہیں، تاکہ دوسرے صارفین محفوظ رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات غلطی سے بھی کسی اکاؤنٹ پر جائزہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کمپنی اسے جلد از جلد درست کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ صارف دوبارہ اپنی چیٹس استعمال کر سکیں۔
صارفین کو کیا پیغام ملا؟
یہ مسئلہ رات تقریباً 8 بجے سامنے آیا، جب بڑی تعداد میں صارفین نے اس کی اطلاع دینا شروع کی۔ واٹس ایپ کی جانب سے دکھائے گئے پیغام میں کہا گیا کہ اکاؤنٹ کی سرگرمی اور استعمال ہونے والی ڈیوائس کی معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صارف واٹس ایپ کی سروس کی شرائط پر عمل کر رہا ہے۔ پیغام میں یہ بھی بتایا گیا کہ عام طور پر 24 گھنٹوں کے اندر جائزے کا نتیجہ صارف کو بتا دیا جائے گا۔ اس اسکرین پر صارفین کو واٹس ایپ کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق رہنمائی بھی دی گئی، جبکہ چوری شدہ موبائل فونز اور ہیک یا متاثرہ اکاؤنٹس سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی شکایات
متعدد متاثرہ صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ناراضی ظاہر کی۔ ایک صارف نے کہا کہ اس نے اپیل بھی جمع کرائی، لیکن اس کے باوجود اس کا اکاؤنٹ بغیر کسی وضاحت کے غیر فعال رہا۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ وہ صرف آفیشل واٹس ایپ استعمال کر رہا تھا، اس کے باوجود بغیر کسی وارننگ کے اس کا اکاؤنٹ جائزے کے تحت چلا گیا۔ اس نے کہا کہ واٹس ایپ اس کے روزگار اور کام کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس اچانک پابندی سے اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پیر کی شام واٹس ایپ نے کئی اکاؤنٹس کو اچانک 24 گھنٹوں کے لیے جائزے کے تحت رکھ دیا، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد اس دوران ایپ کی سہولیات استعمال نہیں کر سکے۔ اس کے مطابق، اس جائزے سے بھارت سمیت کئی دیگر مقامات پر صارفین پریشان ہوئے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی شکایات بھی درج کرائیں۔