• News
  • »
  • قومی
  • »
  • کانوڑ یاترا 2026: عقیدت، انتظامی پابندیاں اور بڑھتے ہوئے ہنگامی واقعات

کانوڑ یاترا 2026: عقیدت، انتظامی پابندیاں اور بڑھتے ہوئے ہنگامی واقعات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 04, 2026 IST

کانوڑ یاترا 2026: عقیدت، انتظامی پابندیاں اور بڑھتے ہوئے ہنگامی واقعات
شمالی ہندوستان میں ساون کے مقدس مہینے کا آغاز ہوتے ہی اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش کے مختلف حصوں میں لاکھوں کی تعداد میں کانوڑیوں کا سفر اپنے عروج پر ہے۔ اپنے کندھوں پر گنگاجل (گنگا کا مقدس پانی) اٹھائے یہ عقیدت مند شیولنگ پر ابھیشیک کے لیے اپنی منزلوں کی طرف گامزن ہیں۔ مذہبی روایت کے مطابق ساون کا یہ مہینہ بھگوان شیو کی اس قربانی کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے ساون کے مقدس مہینے میں سمندر منتھن (سمندر کی مچھائی/منٹھن) کے دوران بھگوان شیو نے کائنات کو بچانے کے لیے وہاں سے نکلنے والے مہلک زہر 'ہالہل' کو اپنے حلق میں اتار لیا تھا۔ اس زہر کی شدید تپش اور گرمی کو کم کرنے کے لیے دیوتاؤں نے گنگا جل کا استعمال کرتے ہوئے ان پر جل ابھشیک (رسمی غسل) کیا تھا۔ جہاں ایک طرف یہ سفر عقیدت، پائیداری اور ضبط نفس کا مظہر ہے، وہیں دوسری طرف انتظامی چیلنجز اور حالیہ کچھ ناخوشگوار واقعات نے اس پر سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
 
 
تعلیمی اداروں کی تعطیلات اور سیکیورٹی الرٹ
 
کانوڑ یاترا کے دوران لاکھوں کے ہجوم اور شاہراہوں پر شدید ٹریفک دباؤ کے پیش نظر اتر پردیش اور اتراکھنڈ کی ضلعی انتظامیہ نے طلباء کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے اہم اقدامات کیے ہیں۔ میرٹھ اور مظفر نگر اضلاع میں تمام سرکاری و نجی اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے 3 اگست سے 10 اگست تک مکمل طور پر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بریلی میں ساون کے ہر پیر کو اسکول بند رہیں گے، جبکہ ایٹا اور بداون میں ہفتہ اور پیر کو تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرادآباد میں ساون کے پہلے پیر (3 اگست) کو تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا۔ ہریدوار میں 30 جولائی سے 11 اگست تک آنگن واڑی مراکز سے لے کر تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، تاہم پڑھائی کے نقصان کو بچانے کے لیے آن لائن کلاسز کی ہدایت دی گئی ہے۔ اجین، مندسور، ریوا اور جبل پور کے اہم شیو مندروں کے قریب واقع اسکولوں میں بھی مقامی بنیادوں پر تعطیلات دی گئی ہیں۔
ریاست بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے الرٹ پر حساس راستوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور دہلی-این سی آر سمیت دیگر شاہراہوں پر روٹ ڈائیورژن نافذ کیا گیا ہے۔
 
عقیدت کے رنگ اور قانون و بالادستی پر اٹھتے سوالات
 
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے عقیدت مندوں پر پھول نچھاور کرنے اور ان کی سہولت کاری کے تمام تر اقدامات کے باوجود، ریاست کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے عام شہریوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے:
 
میرٹھ میں پولیس پر حملہ: میرٹھ میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جہاں کانوڑیوں کے ایک گروہ نے سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں کی جیپ پر حملہ کر دیا اور اہلکاروں کو لاٹھیوں سے نشانہ بنایا۔
 
لکھنؤ میں اسکول وین پر پتھراؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں معمولی تصادم کے بعد کنواریوں نے ایک اسکول وین پر پتھراؤ کیا، جس سے وین کے شیشے ٹوٹ گئے اور گاڑی کے اندر موجود بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہوئے۔
 
تاج محل میں جلابھشیک کی کوشش: آگرہ میں کچھ خواتین کنواریوں نے تاج محل کو 'تیجو محلیہ' قرار دیتے ہوئے اس کے احاطے کے باہر جلابھشیک کرنے کی اجازت مانگی، تاہم موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو سنبھال لیا۔
 
مظفر نگر اور ہریدوار میں توڑ پھوڑ: پرجوش ڈی جے میوزک اور رقص کے درمیان کچھ مقامات پر گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
 
 
کانوڑ یاترا، جہاں ایک طرف ہندوستانی روایات کے تحت ضبط نفس، صبر اور اجتماعی عقیدت کی ایک عظیم مثال پیش کرتی ہے، وہیں دوسری طرف قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے والے عناصر پر قابو پانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ عام عوام اور متاثرہ علاقوں کے رہائشی اس بات کے منتظر ہیں کہ انتظامیہ عقیدت مندوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو کس طرح یقینی بناتی ہے۔