Thursday, May 21, 2026 | 03 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • آج ملک بھر کے 15 لاکھ سے زائد میڈیکل اسٹورز کیوں بند ہیں؟ جانیے وجہ

آج ملک بھر کے 15 لاکھ سے زائد میڈیکل اسٹورز کیوں بند ہیں؟ جانیے وجہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 20, 2026 IST

 آج ملک بھر کے 15 لاکھ سے زائد میڈیکل اسٹورز کیوں بند ہیں؟  جانیے وجہ
آج ملک بھر میں میڈیکل اسٹورز اور دواخانے مکمل طور پر بند ہیں۔ فارماسسٹ، کیمسٹ اور ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز کی سب سے بڑی تنظیم 'آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ' (AIOCD) نے اس ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ تنظیم نے آن لائن ادویات کی بے لگام فروخت، کارپوریٹ چین فارمیسیوں کی جانب سے حد سے زیادہ ڈسکاؤنٹ دینے اور نشہ آور ادویات کے غلط استعمال کے خلاف احتجاجاً یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے ملک کے 15 لاکھ سے زیادہ میڈیکل اسٹورز بند ہیں۔
 
ملک بھر میں ہڑتال کا شدید اثر:
 
لکھنؤ، احمد آباد اور دہلی سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس ہڑتال کا واضح اثر دیکھا جا رہا ہے۔ روایتی ادویات کے تاجروں نے اپنی دکانیں مکمل طور پر بند رکھی ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
 
لکھنؤ میں میڈیکل اور فارما ایسوسی ایشن کی اپیل پر دکانیں بند ہیں۔گجرات کے تقریباً 35,000 میڈیکل اسٹورز نے اس ہڑتال کی کھل کر حمایت کی ہے۔دیگر شہر: چندی گڑھ، اندور اور دیگر بڑے تجارتی مراکز میں بھی ادویات کی مارکیٹیں سنسان نظر آ رہی ہیں۔ ہسپتالوں کے آس پاس صرف انتہائی ضروری ادویات ہی دستیاب ہو پا رہی ہیں۔
 
 کیمسٹ تنظیم کے اہم مطالبات کیا ہیں؟
 
AIOCD کے قومی صدر جے ایس شندے کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت آن لائن ادویات کی فروخت مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور یہ مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ تنظیم نے حکومت سے درج ذیل مطالبات کیے ہیں:
 
حکومت سے 'GSR 817' نوٹیفکیشن کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔آن لائن فارمیسی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا، سخت اور مضبوط قانونی ڈھانچہ (ریگولیٹری فریم ورک) تیار کیا جائے۔ای فارمیسی کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے بھاری ڈسکاؤنٹ پر روک لگائی جائے تاکہ روایتی دکان داروں کا کاروبار متاثر نہ ہو۔
 
 آن لائن ادویات کی فروخت پر اعتراضات:
 
تنظیم نے پریس ریلیز میں انکشاف کیا ہے کہ آن لائن ایپس کے ذریعے غلط یا جعلی نسخوں (Prescriptions) پر بھی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں.عام دکانیں ڈاکٹر کے مستند نسخے کی جانچ کے بعد ہی دوا دیتی ہیں اور اس کا پورا ریکارڈ رکھتی ہیں، جبکہ ای فارمیسی کمپنیاں بغیر کسی تصدیق کے ادویات بیچ رہی ہیں۔ ادویات کی قیمتیں نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (NPPA) طے کرتی ہے، لیکن آن لائن کمپنیاں ان ضابطوں کو نظر انداز کر کے بھاری چھوٹ دے رہی ہیں۔ کئی معاملات میں تو جعلی اور ممنوعہ ادویات کی آن لائن ترسیل کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
 
مریضوں کے لیے متبادل انتظامات:
 
عام عوام کی سہولت اور ہنگامی حالات (ایمرجنسی) کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ استثنیٰ دیے گئے ہیں:ہسپتال کے احاطے کے اندر واقع میڈیکل اسٹورز کو کھلا رکھا گیا ہے۔سرکاری ہسپتالوں اور بلاک سطح کے ہیلتھ سینٹرز میں ادویات کی سپلائی جاری ہے۔
 
ریاستی حکومتوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع وار ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں اور ڈرگ انسپکٹرز کو الرٹ پر رکھا ہے تاکہ ادویات کی شدید قلت پیدا نہ ہو۔