بھارت میں گائے کی اسمگلنگ اور ذبیحہ کے الزامات کے تحت سیکڑوں مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں گائے کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں تشدد (ماب لنچنگ) اور ہلاکتوں کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے پریشان ہو کر اب ملک کے کئی مسلم رہنماؤں اور علمائے کرام نے حکومتِ ہند سے ایک بڑا مطالبہ کر دیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو باقاعدہ طور پر 'قومی جانور' (National Animal) قرار دیا جائے اور اس قانون کو پورے ملک میں یکساں نافذ کیا جائے، تاکہ گائے کے نام پر ہونے والی سیاست اور تشدد کا خاتمہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی، گائے کی غیر قانونی اسمگلنگ کرنے والوں اور اسے قصائیوں کو بیچنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کی بھی حمایت کی گئی ہے۔
لیکن اسکے باوجود مودی حکومت پوری طور پر خاموش ہے،سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں گائے ایک سیاست کا حصہ ہے ،جسکے نام پر موجودہ حکومت سیاسی روٹیاں سیک رہی ہے۔کئی بڑے تاجر جو غیر مسلم ہیں انکا کاروبار ہی گائے کے گوشت کو ایکسپورٹ کرنا ہے،جن سے خود بی جے پی حکومت فائدہ حاصل کرتی ہے،ایسے میں اگر انہوں نے یہ قدم اٹھایا تو خود انہیں بڑا نقصان پہنچے گا۔
ماب لنچنگ کو روکنے کے لیے مولانا ارشد مدنی کا بڑا مطالبہ:
مسلم تنظیم جمیعت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مور کو 'قومی پرندہ' قرار دیے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گائے کو بھی اسی طرز پر قومی جانور کا درجہ ملنا چاہیے۔مولانا ارشد مدنی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ایکس'پر بھی اس حوالے سے کئی پوسٹس شیئر کیں،
جن میں انہوں نے کہا:گائے کے نام پر معصوم لوگوں کا قتل عام اور نفرت کی سیاست کیوں کی جاتی ہے؟ میں خود آپ سے ایک قدم آگے بڑھ کر گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ گائے ہندو برادری کی مذہبی عقیدت اور جذبات سے وابستہ ہے، اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔
حکومت ہمارے مطالبے پر جواب کیوں نہیں دے رہی؟ مولانا سفیان نظامی
لکھنؤ کے معروف دارالعلوم کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے بھی اس مہم کی کھل کر حمایت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:مسلمان بار بار حکومت سے گزارش کر رہا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے، لیکن اس کے باوجود حکومت کی طرف سے اب تک کوئی واضح جواب یا ایکشن سامنے نہیں آیا۔ ہم ان تمام علمائے کرام کا احترام کرتے ہیں جو یہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی ایک تجویز پاس کر کے مسلمانوں کے لیے گائے کاٹنے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
ہندو ہمارا بڑا بھائی ہے، ہم گائے کا احترام کریں گے: مولانا ساجد رشیدی
آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے کی حفاظت اور اس کا تحفظ ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا:ملک کا ہندو طبقہ ہمارا بڑا بھائی ہے اور ان کی عقیدت کا احترام کرنا ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔ گائے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ گائے کے احترام میں اب مسلمان کھل کر میدان میں آ گیا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں اور میں ایک 'آل انڈیا گائے رکشا پارٹی' بنانے پر کام کر رہا ہوں، جس میں گائے کے تحفظ کے لیے مخلصانہ کام کرنے والے لوگوں اور تمام بڑے علمائے کرام کو شامل کیا جائے گا۔
مسلم برادری کی جانب سے پہلے بھی کی گئی ہیں اپیلیں:
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسلم رہنماؤں نے ماب لنچنگ کو روکنے اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے یہ مطالبہ کیا ہو۔اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ افضال انصاری نے بھی پارلیمنٹ اور عوامی حلقوں میں گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ اٹھایا تھا۔
ہر سال بقرعید کے موقع پر مسلم تنظیموں، خصوصاً جمیعت علمائے ہند کی طرف سے مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں گائے کی قربانی سے مکمل گریز کریں جہاں قوانین سخت ہیں یا جہاں ہندو برادری کی اکثریت ہے، اور قربانی کی حساس ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں تاکہ امن و امان قائم رہے۔