Sunday, May 03, 2026 | 15 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • اتر پردیش میں اسمارٹ میٹروں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟

اتر پردیش میں اسمارٹ میٹروں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 03, 2026 IST

اتر پردیش میں اسمارٹ میٹروں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟
اتر پردیش میں اسمارٹ میٹروں کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی دوران آگرہ سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں لوگ اپنے گھروں سے میٹر اکھاڑ کر بجلی کے محکمے کے دفتر کے سامنے پھینکتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔یہ واقعہ اکولا قصبے کا بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل خواتین نے گھروں میں لگے اسمارٹ میٹر اکھاڑ کر سر پر رکھے اور بجلی کے دفتر تک احتجاجی مارچ نکالا تھا۔ میرٹھ، لکھنؤ، باندا، ہاپوڑ، آگرہ اور پرتاپ گڑھ میں بھی اس طرح کے مظاہرے ہو چکے ہیں۔
 
 اسمارٹ میٹروں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟
 
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں عام پوسٹ پیڈ میٹر ہٹا کر اسمارٹ میٹر لگائے جا رہے ہیں، جس کے بعد مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ میٹر لگنے کے بعد ان کا بیلنس 'نیگیٹو' (منفی) میں چلا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کی بجلی کاٹ دی گئی۔اگرچہ اب حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ 200 روپے تک بیلنس منفی ہونے پر بجلی نہیں کاٹی جائے گی۔
 
 کئی اضلاع میں بجلی کے بلوں میں اضافے کا الزام:
 
ہردوئی سمیت کئی اضلاع سے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ اسمارٹ میٹر لگنے کے بعد صارفین کے میٹر بہت تیزی سے چل رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں 'بجلی صارف حل دن' (Bijli Upbhogta Samadhan Diwas) کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں صارفین نے اسمارٹ میٹر لگنے کے بعد معمول سے کہیں زیادہ بل آنے کی شکایت کی تھی۔