ایرانی انسانی حقوق کی کارکن اور نوبل امن انعام کی فاتح نرگس محمدی کئی سالوں سے جیل میں ہیں۔ حال ہی میں وہ جیل میں بھوک ہڑتال پر تھیں۔ اب انہیں سات سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ خبر 8 فروری کو نرگِس محمدی کے حامیوں نے ان کے وکیل کے حوالے سے دی۔
نرگِس محمدی کے وکیل مصطفیٰ نیلی نے ایکس پر سزا کی تصدیق کی۔ انہوں نے لکھا:انہیں جمع ہونے اور سازش رچانے کے الزام میں چھ سال اور پروپیگنڈا کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، ساتھ ہی دو سال کا سفر پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، ایران کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حامیوں کا دعویٰ ہے کہ نرگِس محمدی 2 فروری سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
نرگِس محمدی کون ہیں؟
نرگِس محمدی ایک مشہور انسانی حقوق کی کارکن اور صحافی ہیں۔ انہوں نے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی ہے، خواتین کے حقوق، سیاسی آزادی اور سزائے موت کے خاتمے کی وکالت کی ہے۔ نرگس کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کو برابر حقوق ملنے چاہییں۔ انہوں نے کھلے عام کہا ہے کہ ایران میں بہت سی خواتین صرف لباس کے انتخاب، اپنی رائے کا اظہار کرنے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی وجہ سے ستائی جاتی ہیں۔
2023 میں نوبل امن انعام سے نوازا جا چکا ہے :
2023 میں نرگس محمدی کو ایران میں خواتین پر ہونے والے مبینہ مظالم اور بدسلوکی کے خلاف ان کی جدوجہد کے لیے نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ اس وقت وہ جیل میں تھیں، اس لیے ان کے بچوں نے ان کی طرف سے یہ انعام وصول کیا۔ نرگس محمدی کو ایران کے سب سے مضبوط اور بہادر ناقدین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔