Saturday, April 11, 2026 | 22 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مونالیسا کے شوہر فرمان خان کے خلاف کیوں درج ہوا مقدمہ ،جانیے کیا ہے معاملہ؟

مونالیسا کے شوہر فرمان خان کے خلاف کیوں درج ہوا مقدمہ ،جانیے کیا ہے معاملہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 11, 2026 IST

مونالیسا کے شوہر فرمان خان  کے خلاف  کیوں درج   ہوا مقدمہ ،جانیے کیا ہے  معاملہ؟
مہا کنبھ  سے 'وائرل گرل' کے نام سے مشہور مونالیسا بھونسلے کے تعلق سے ایک ایسا انکشاف ہوا ہے۔جس سے انکے شوہر  کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔در اصل،قومی شیڈولڈ ٹرائب کمیشن (NCST) کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مونالیسا نابالغ ہے۔ اس انکشاف کے بعد مونالیسا سے شادی کرنے والے فرمان خان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع کے مہیشور پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں POCSO ایکٹ کے تحت سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔
 
اس کیس نے سب سے پہلے اس وقت سرخیاں بنائیں جب مونالیسا کی عمر کو لے کر شکوک پیدا ہوئے۔ NCST کے چیئرمین انتر سنگھ آر یہ کے ہدایات پر تشکیل دی گئی ٹیم نے کیرالہ سے لے کر مدھیہ پردیش تک گہری تحقیق کی۔ یہ تحقیق ایڈووکیٹ پرثم دوبے کی طرف سے کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر آگے بڑھی۔ مہیشور کے سرکاری ہسپتال کے ریکارڈز کی بنیاد پر کی گئی اس تحقیق میں پتہ چلا کہ مونالیسا کی پیدائش 30 دسمبر 2009 کو ہوئی تھی۔ اس حساب سے 11 مارچ 2026 کو جب اس کی شادی ہوئی تو اس کی عمر صرف 16 سال اور 2 ماہ تھی۔
 
جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کس نے بنایا؟  
 
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شادی کے لیے استعمال کیا گیا جنم پرمان پتر جعلی تھا۔ کیرالہ میں شادی کے رجسٹریشن کے لیے جمع کرائے گئے دستاویزات میں اس کی پیدائش کی تاریخ 1 جنوری 2008 درج تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ سرٹیفکیٹ مہیشور نگر پالکہ نے غیر قانونی طور پر جاری کیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس جعلی دستاویز کو سرکاری طور پر منسوخ کرانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔  
 
اس کیس میں ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا جب ایڈووکیٹ پرثم دوبے نے کمیشن کو بتایا کہ اس شادی میں کچھ سیاسی شخصیات اور مخصوص تنظیموں کی کردار مشکوک لگتا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی تصدیق جاری تحقیق مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
 
فرمان کے خلاف مقدمہ درج  :
 
اس پورے معاملے میں فرمان خان کے خلاف POCSO ایکٹ، بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) اور SC/ST ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، کیونکہ متاثرہ لڑکی پارڈھی قبيلے سے تعلق رکھتی ہے۔ پولیس نے اپنی تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزم کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔  
 
NCST نے اس معاملے کو انتہائی سنگینی سے لیا ہے اور کیرالہ ، مدھیہ پردیش دونوں ریاستوں کے پولیس ڈائریکٹر جنرلز (DGPs) کو 22 اپریل 2026 کو اپنے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کیس پر مسلسل نظر رکھے گا اور جب تک مجرموں کو سزا نہیں مل جاتی، کاروائی جاری رہے گی۔